خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 765
خطبات طاہر جلد 15 765 خطبہ جمعہ 27 ستمبر 1996ء جس کے پیدا ہونے سے آپ کتنی بڑی خطرناک ٹھوکروں سے بچ سکتے ہیں۔پس اس بات کو سمجھانے کی خاطر یہ ساری میں نے تمہید باندھی ہے خدا سے بکلی تعلق نہ ٹوٹ جائے اگر یہ ٹوٹا تو کچھ بھی نہیں رہے گا اور بکلی تعلق تب نہیں ٹوٹے گا جب آپ نگاہ رکھیں گے کہ آپ کا تعلق ٹوٹ رہا ہے یا مضبوط ہو رہا ہے ، بڑھ رہے ہیں اس کی طرف یا اس سے دور ہٹتے ہیں۔دور ہٹتے ہوئے بھی جہاں یہ شعور پیدا ہو گیا کہ ہم نے بہت کچھ کھو دیا ہمیں واپسی چاہئے وہیں سے واپسی کا رستہ شروع ہو جائے گا، وہیں سے مغفرت کا مضمون شروع ہو جائے گا لیکن اگر اتنی تاخیر ہو جائے کہ معاملہ حد سے بڑھ جائے تو پھر آپ کا تعلق ٹوٹ چکا ہوگا ، آپ کو وہم میں بھی نہیں آئے گا کہ آپ کیا کھو بیٹھے ہیں اور اس وقت پھر خدا سے دوری کی لذتیں شروع ہوتی ہیں ، انسان آزاد ہو جاتا ہے وہ کہتا ہے میں ہی مالک ہوں میں سب کچھ ہوں پھر جو کچھ ہو وہ کر گزرتا ہے۔اگر حاکم ہے تو ایسا خود مختار حاکم ہے ایساڈکٹیٹر بن کے ابھرتا ہے کہ اس کے لئے ہر فعل جائز ہے۔اگر وہ ملازم ہے تو بددیانتی میں اس کے مالک کے معاملات میں ظالمانہ طور پر تصرف کے معاملے میں اس کو ذرہ بھی پرواہ نہیں ہوتی۔حکومتوں کے ملازم دیکھ لیں اب ہمارے ممالک میں جہاں بدقسمتی سے بددیانتی زیادہ ہوگئی ہے وہاں یہی حال ہے۔حکومت کے مال کو تو یوں سمجھتے ہیں اس کی کوئی حقیقت، حیثیت ہی کوئی نہیں اس میں سے وہی مال ہے جو ہمارا بن سکتا ہے باقی جائے جہنم میں کوئی پرواہ نہیں تو اکثر ان کا بن جاتا ہے اور ایسی حکومتوں کے خزانے جب خالی ہوتے ہیں تو اس میں اوپر سے لے کے نیچے تک سب شریک ہوتے ہیں ، سب مجرم ہیں۔وہ جو حکومت کر رہے ہیں وہ بھی مجرم ہیں ، جو حکومت کی تمنا لئے باہر بیٹھے ہیں وہ بھی مجرم ہیں کیونکہ ہر ایک کی تمنا میں حکومت کو منفعت میں تبدیل کرنے کی نیت شامل ہوتی ہے ایسے لوگوں کا پھر کچھ بھی نہیں بنا کرتا۔اس وقت یہ سوال نہیں ہوا کرتا یہ جائے تو فلاں آئے ، اس وقت تو یہ حالت ہو جاتی ہے کہ یہ جائے گا بھی تو کیا آئے گا۔یہ جائے یا وہ آئے یا وہ جائے اور یہ آئے ایک ہی بات کے دو نام ہیں، کوئی بھی فرق نہیں پڑتا۔پس اس مضمون کو اس عربی شعر پر میں اب ختم کرتا ہوں جو پہلے بھی سنا چکا ہوں لیکن امراؤ القیس کا یہ شعر بہت ہی گہری حکمتوں پر مبنی ہے اور لطف دینے والا ہے اس شعر کے حوالے سے آپ کو یہ مضمون یادر ہے گا وہ کہتا ہے: