خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 706
خطبات طاہر جلد 15 706 خطبہ جمعہ 6 ستمبر 1996ء برائیوں میں سے نہیں ہے جس کا ظاہر کرنا گناہ ہے۔ان بیماریوں کا مضمون ہی بالکل الگ ہے۔یہ وہ صلى الله باتیں ہیں جہاں ظاہر کرنا لازم ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے یہ دو آیات نکاح کے موقع پر تلاوت کے لئے خود چنی ہیں یعنی وحی الہی کے تابع۔اس لئے ہمیں یہ سمجھایا گیا کہ رشتوں میں لازماً قَوْلًا سَدِيدًا سے کام لینا ورنہ بہت تکلیفیں پہنچیں گی معاشرے کو اور اکثر جو تکلیفیں ہیں وہ اسی طرح پہنچتی ہیں۔آئے دن مجھے خط ملتے ہیں کہ جی ہمیں بتایا گیا تھا کہ اس کی پچاس ہزار روپے ماہانہ آمد ہے اور آکے پتا چلا کہ پانچ سو مشکل سے لیتا ہے اور وہ بھی ماں باپ کے اوپر پل رہا ہے۔اب بتائیں یہ تو خیر جھوٹ ہو گیا مگر قَوْلًا سَدِيدًا میں اور باتیں آجاتی ہیں اس طرح کی۔مثلاً یہاں انگلستان میں ایک کمانے والا جو ہے وہ اگر پانچ سو پاؤنڈ مہینے کا لیتا ہے تو پچیس ہزار روپیہ ہے وہ۔اب قَوْلًا سَدِيدًا کا تقاضا ہے کہ وہ جا کے بتائے کہ کچھ بھی نہیں ہے مجھے جو پانچ سو ملتا ہے اس سے ہمشکل دو وقت کی روٹی کھاتا ہوں۔وہاں جا کے نادانوں بے چاروں کو ، نا واقفوں کو کہے مجھے پچھیں ہزار روپے مل رہے ہیں ، بڑی شاندار نوکری ہے تو وہ دھوکے میں آجاتے ہیں اور جب بیٹیاں رخصت کر کے بھیجتے ہیں تو یہاں آکے پتا چلتا ہے کہ کھانے کو کچھ بھی نہیں ان کے پاس۔تو قول سدید کا جو تعلق ہے یہ خانگی معاملات میں بھی ہے اور جماعتی معاملات میں بھی بہت ہے اور میں جماعتی معاملات کے پہلو سے اب آپ کو خصوصیت سے متوجہ کر رہا ہوں اگر چہ حوالے بعض خانگی معاملات کے دئے ہیں۔ہمارے نظام میں جہاں بھی کہیں رخنے پیدا ہوتے ہے، عام طور پر اللہ کے فضل سے اب جماعت کی اتنی تربیت ہوگئی ہے کہ جھوٹ نہیں بولتی شاذ ہی شاید کبھی کوئی اتفاق سے واقعہ ایسا علم میں آئے کہ کسی نے جھوٹ بولا ہواور اس کی وجہ سے نظام جماعت میں رخنہ پیدا ہو وہ اب قَوْلًا سَدِيدًا کی کمی سے ضرور پیدا ہو جاتا ہے اور ایسے بہت سے معاملات ہیں جن کے تجربے آئے دن ہوتے رہتے ہیں اور انگلستان کے جلسے کے تعلق میں بھی امیر صاحب کے سپر د میں نے کام کئے ہیں کہ کمیشن بٹھا ئیں غور کریں یہ واقعہ ہوا کیوں آخر ، ہونا چاہئے نہیں تھا۔جب پوچھا جاتا ہے تو جو جواب دیتے ہیں وہ اگر چہ اپنی ذات میں سچا ہو گا مگر پردے ڈالے جاتے ہیں۔جب تحقیق کی جائے تو وہاں پر دے اتارنے کا وقت ہے وہ ستاری کے وقت نہیں ہوا کرتے اس لئے آپ لوگ جب تک تقویٰ کی باریک راہوں کے مضامین کو سمجھیں گے نہیں اپنی بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کو ادا کیسے