خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 675 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 675

خطبات طاہر جلد 15 675 خطبہ جمعہ 30 اگست 1996ء لیکن جس طرح انہوں نے خدمت کی مجھے انہوں نے بتایا کہ بالکل لگتا تھا کہ بہت ہی معزز مہمان آیا ہوا ہے جس کے لئے فرش راہ بن گئے تھے۔انتظار کرتے کرتے راتیں آنکھوں میں انہوں نے کاٹیں۔اپنا سب گھر بار ہمیں پیش کر دیا۔ان کے بچے محبت سے ملے ، ان کے بڑوں نے خدمت کی اور تھکے نہیں ، ان کے چہرے پر مسلسل بشاشت کے آثار تھے۔یہ وہ خوبی ہے جس پر اللہ پیار کی نظر ڈالتا ہے۔پس میں جماعت جرمنی کومبارکباددیتا ہوں۔الله میں پہلے بھی کئی دفعہ وہ واقعہ بیان کر چکا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں ایک مہمان کی خدمت پر آنحضرت ﷺ کو اللہ نے اطلاع دی اور ایک روایت میں آتا ہے کہ اللہ آسمان پر ہنس رہا تھا جب وہ خدمت کرنے والے اس رنگ میں خدمت کر رہے تھے اور ایک روایت میں میں نے یہ بھی سنا ہے کہ جب وہ مہمان کو یہ بتانے کے لئے کہ گویا ہم بھی کھا رہے ہیں مچا کے مار رہے تھے یعنی چٹخارے جس طرح کھاتے ہوئے انسان بھرتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان پر مچا کے مار رہا تھا۔یہ ایک بہت ہی عظیم اظہار ہے خدا تعالیٰ کا اپنے پیارے بندوں کے ہر حسن پر نگاہ رکھنے کا۔نعوذ باللہ من ذالک اللہ تعالیٰ تو مچا کے نہیں مارا کرتا۔نہ وہ ہنستا ہے ان معنوں میں جن میں ہم ہنستے ہیں۔تو یہ انسانی محاورے کی مجبوریاں ہیں اس لئے آنحضرت ﷺ نے بھی ان محاوروں کو استعمال کر کے ایسی زبان میں ہمارے دل کو پیغام دیا کہ دل اللہ کی محبت میں گرفتار ہو جائے۔اس سے بہتر اظہار ممکن نہیں تھا۔پس ہرگز یہ وہم نہ لائیں کہ نعوذ بالله من ذالک، اللہ تعالیٰ کوئی بیٹھا آسمان پر کسی کے مچاکوں کے ساتھ مچا کے مارنے لگ جاتا ہے۔وہ تو وہ خدا ہے جو غریبوں کے ساتھ غریب ہو جاتا ہے ، اپنے خدمت کرنے والے بندوں کے ساتھ ان کی خدمتوں میں شامل ہو جاتا ہے، اس کی جو عظمت ہے وہ اس بات میں ہے کہ وہ اپنے ذلیل سے ذلیل بندے پر بھی جھک سکتا ہے اور یہی اس کی عظمت کے اظہار کے قصے ہیں کہ ایک معمولی سی بات کے اوپر بھی اللہ تعالیٰ اتنے پیار سے شکریہ ادا کرتا ہے ان بندوں کا جو احسانات کے تلے دبے ہوئے ہیں اور وہ احسانات کا شکر یہ ادا ہی نہیں کر سکتے۔تو یہ حسن خدا کی ذات کا ہے۔اس کی عظمت اور اس کی رفعت اس میں ہے کہ وہ اپنے کمزور سے کمزور بندوں میں بھی جب کوئی اچھی بات دیکھتا ہے تو ان پر جھک جاتا ہے اور ان کو اپنے جھکنے کے ساتھ رفعت بخشتا ہے۔پس یہ خوبی جو مہمان نوازی کی خوبی ہے اس کے متعلق بھی جیسا کہ حضرت رسول اللہ اللہ