خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 648
خطبات طاہر جلد 15 648 خطبہ جمعہ 16 راگست 1996ء سکتے یہ فقط ایک طبعی جوش ہے۔اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ حالت طبعی کو ؤں وغیرہ پرندوں میں بھی پائی جاتی ہے کہ ایک کو لے کے مرنے پر ہزار ہا کوے جمع ہو جاتے ہیں لیکن یہ عادت انسانی اخلاق میں اس وقت داخل ہوگی جب یہ ہمدردی انصاف اور عدل کی رعایت سے محل اور موقع پر ہو۔اس وقت ایک عظیم الشان خلق ہوگا جس کا نام عربی میں مؤاخات اور فارسی میں ہمدردی ہے۔اسی کی طرف اللہ جل شانہ قرآن کریم میں اشارہ فرماتا ہے: وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ - پس جب قوم کا ایک فرد کسی دوسری قوم پر ظلم کرتا ہے اور آپ قومی حمیت کی وجہ سے اس کی مدد کرتے ہیں اس کی رعایت کرتے ہیں، اس کے پہلو پر کھڑے ہو جاتے ہیں تو یہ آیت کے دوسرے ھے وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ سے بغاوت ہوتی ہے۔پس ان دونوں کے درمیان ایک حسین اور کامل توازن پیدا کرنا ضروری ہے اور اندرونی عادتوں میں جو آپ کی نیکی کی عادتیں ہیں ان میں بھی ایک توازن پیدا کرنا ضروری ہے جیسا کہ مالی اخراجات کے وقت آپ کے دل کھل چکے ہیں خدا کے فضل کے ساتھ ، وہاں وقت کے خرچ پر اگر نہیں کھلے تو یہ عدم تعاون کی ایک مثال ہے۔آپ کی صلاحیتیں آپ کی دوسری صلاحیتوں سے پورا تعاون نہیں کر رہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کی مثال یوں دیتے ہیں: ”ہمارے ہاتھ اور پاؤں اور کان اور ناک اور آنکھ وغیرہ اعضاء اور ہماری سب اندرونی اور بیرونی طاقتیں ایسی طرز پر واقع ہیں کہ جب تک وہ باہم مل کر ایک دوسرے کی مدد نہ کریں تب تک افعال ہمارے وجود کے علی مجری الصحت ہرگز جاری نہیں ہو سکتے اور انسانیت کی کل ہی معطل پڑی رہتی ہے جو کام دو ہاتھ کے ملنے سے ہونا چاہئے وہ محض ایک ہی ہاتھ سے انجام نہیں ہو سکتا“ براہین احمدیہ حصہ دوم، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 59) پس صلاحیتوں کا آپس کا تعاون اور انسان کی اندرونی صفات کا ایک دوسرے سے تعاون حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے جوارح کے تعاون کی مثال سے ہمارے سامنے کھول دیا۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ مومن ایک بدن کی طرح ہیں جیسے ایک بدن کے اعضاء