خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 647
خطبات طاہر جلد 15 647 خطبہ جمعہ 16 راگست 1996ء اور نکتہ چینیاں کرتے رہیں اور کمزوروں اور غریبوں کی حقارت کریں اور ان کو حقارت اور نفرت کی نگاہ سے دیکھیں۔ایسا ہرگز نہیں چاہئے بلکہ اجماع میں چاہئے کہ قوت آجاوے اور وحدت پیدا ہو جاوے جس سے محبت آتی ہے اور برکات پیدا ہوتے ہیں۔۔۔کیوں نہیں کیا جاتا کہ اخلاقی قوتوں کو وسیع کیا جاوے اور یہ تب ہوتا ہے کہ جب ہمدردی ، محبت اور عفو اور کرم کو عام کیا جاوے اور تمام عادتوں پر رحم، ہمدردی اور پردہ پوشی کو مقدم کر لیا جاوے۔ذرا ذراسی بات پر ایسی سخت گرفتیں نہیں ہونی چاہئیں جو دل شکنی اور رنج کا موجب ہوتی ہیں (ملفوظات جلد دوم صفحہ 200-263) پھر حضور فرماتے ہیں : منجملہ انسان کے طبعی امور کے جو اس کی طبیعت کے لازم حال ہیں ہمدردی خلق کا ایک جوش ہے، قومی حمایت کا ایک جوش بالطبع ہر ایک مذہب کے لوگوں میں پایا جاتا ہے اور اکثر لوگ طبعی جوش سے اپنی قوم کی ہمدردی کے لئے دوسروں پر ظلم کر دیتے ہیں۔گویا انہیں انسان نہیں سمجھتے تو اس حالت کو خلق نہیں کہہ سکتے۔یہ فقط ایک طبعی جوش ہے ( اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 363) تو جہاں تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ کی تلقین فرمائی، ایک دوسرے کو سہارا دینا اور کمزوروں کو اٹھا کر اپنی سطح پر لانے کی کوشش کرنا ایک دعوت الی اللہ کی روح کے طور پر ہمارے سامنے رکھا اور فرمایا کہ اسے اختیار کرو گے تو ایک جماعت بنو گے۔ساتھ یہ بھی فرما دیا کہ ایک جماعت کے بعض نقصانات بھی ہیں یعنی ایک جماعت بننے کے اگر اس میں عصبیت آجائے۔اگر وحدت ملی کے نتیجہ میں دوسروں سے نفرت اور دوسروں پر برتری کے جذبات پیدا ہو جا ئیں تو یہ وحدت ملی تو حید کی مظہر نہیں بلکہ شیطان کی مظہر بن جاتی ہے۔دنیا میں اکثر مظالم وحدت ملی کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں اگر قومی کردار بگڑا ہوا ہو، جتنا وہ اکٹھے ہوں گے اتناہی نقصان پہنچے گا۔پس اس پہلو کو کھول رہے ہیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں سب اچھی باتیں ہیں ہمدردی خلق، جوش ، اپنے بھائی کو برابر کر کے اپنے ساتھ شامل کر لینا مگر جو لوگ اس کے نتیجہ میں دوسری قوموں پر ظلم کرتے ہیں۔گویا انہیں انسان نہیں سمجھتے سو اس حالت کو خلق نہیں کہہ