خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 643
خطبات طاہر جلد 15 643 خطبہ جمعہ 16 راگست 1996ء لئے پکڑا ، قید خانے میں ڈالا اور دوسرے دروازے سے باہر نکال دیا کیونکہ جاتے ہی تبلیغ شروع کر دیتے تھے۔تو اس حالت میں انہوں نے زندگی بسر کی ہے اللہ تعالیٰ کے فضل واحسان کے ساتھ اور مجھے بھی موقع ملا ہے ان کو تبلیغ کرتے ہوئے دیکھنے کا۔عطر چھڑکنا اور اس کے نتیجہ میں لوگوں کو اس طرف بلانا کہ ایک ایسا عطر ہے جس کی خوشبو کبھی ختم نہیں ہوگی اور اس عطر کے سوا جو میں نے تم پر چھڑ کا ہے وہ بھی ایک عطر ہے اگر کہو تو میں تمہیں بتاؤں۔تو جو تجسس کا ہر انسان کے اندر مادہ ہے لوگ پوچھتے تھے ہاں ہاں بتاؤ تو اسی وقت وہ تبلیغ شروع کر دیتے تھے تا کہ یہ ثابت کر سکیں میں نے نہیں کی تھی انہوں نے پوچھا تو میں نے تبلیغ شروع کی۔بہر حال بہت لمبا عرصہ تک بہت شاندار، عظیم الشان خدمت کی توفیق پائی۔کامل وفا کا نمونہ تھے، کامل اطاعت کا نمونہ تھے کبھی اطاعت سے سرموبھی فرق نہیں کیا اور اپنی اولاد کی بہت اچھی تربیت کی۔ساری اولا د خدا کے فضل سے خدمت دین پر مامور رہی ہے۔جس حالت میں بھی ہے لیکن وہ اطاعت شعار ہے اور دین سے محبت کرنے والی ہے۔تو ان کی نماز جنازہ ہوگی اور میں امید رکھتا ہوں دنیا بھر میں احمدی اس نماز جنازہ میں تو شامل نہیں ہو سکتے لیکن دعا میں شامل ہوں اور اپنے اپنے ہاں ان کی نماز جنازہ پڑھیں۔اللہ تعالیٰ انہیں مغفرت عطا فرمائے کیونکہ واقعی عجب آزاد مرد تھا۔دنیا کے دھندوں سے آزاد اور خدمت دین پر جتا ہوا۔اب میں واپس اسی مضمون کی طرف آتا ہوں۔یہ بھی واپس کیا ، یہی مضمون ہے جو جاری ہے یہ مثال دی ہے دعوت الی اللہ کی۔اس رنگ میں آج آپ کو دعوت الی اللہ یہ وقف ہو جانا چاہئے اور تعاون کے رنگ میں ایسا کریں تحکم کے رنگ میں نہ کریں۔کامل یقین کے باوجود اس انکسار پر قائم رہیں جو قرآن کریم کی آیات ہمیں سکھاتی ہیں کہ کامل یقین کے باوجود حکم کا رنگ اختیار نہ کر واور حکمت کے ساتھ پیغام کو پہنچاؤ اور بجز کے ساتھ اصولوں پر قائم رہو کہ فیصلہ خدا کرے گا لیکن پیغام دینا ہمارا کام ہے اور پیغام دو تو دل کا اضطراب لوگوں کو دکھائی دینے لگے۔وہ اضطراب جس کا ذکر آنحضرت ﷺ نے اپنی تبلیغ میں آپ کے سامنے پیش فرمایا ہے یعنی میں کیسا تبلیغ کا جذبہ رکھتا ہوں وہ اضطراب کامل یقین کے بغیر نصیب نہیں ہو سکتا۔وہ اضطراب نصیب ہو جائے تو پھر آواز میں ایک غیر معمولی طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔آج جبکہ احمدیت تبلیغ کے ایک بالکل نئے دور میں داخل ہوگئی ہے جس کا وہم و گمان بھی کوئی نہیں