خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 631
خطبات طاہر جلد 15 631 خطبہ جمعہ 16 راگست 1996ء کامل یقین کے ساتھ دنیا کو ہدایت کی طرف بلانا ہے اور کامل یقین کے بغیر ہدایت کی طرف بلانا بے کار ہو جایا کرتا ہے۔( خطبه جمعه فرموده 16 راگست 1996ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت کریمہ کی تلاوت کی : قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ فَرَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اهْدَى سَبِيلًا (بنی اسرائیل: 85) پھر فرمایا: قرآن کریم کی بعض آیات کے حوالے سے میں نے گزشتہ خطبات میں وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوى (المائدہ:3) کے مضمون پر روشنی ڈالی تھی کہ نیکیوں کے معاملے میں ایک دوسرے سے تعاون کرو اور بدیوں کے معاملے میں ایک دوسرے سے تعاون نہ کرو۔اسی تعلق میں اس مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے دعوت الی اللہ کا مضمون بیان کیا تھا۔دعوت الی اللہ بھی دراصل وَتَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقوی کے نتیجے میں طبعا پیدا ہوتی ہے اور اس پہلو سے میں مضمون کے کچھ حصے کو بیان کر سکا تھا کچھ باقی تھا کہ وقت ختم ہو گیا۔آج میں نے اس مضمون کے ایک اور پہلو کو اٹھایا ہے جو دراصل بعض ذہنوں میں ایک اشتباہ پیدا کرتا ہے اس کی وجہ سے وضاحت ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ فَرَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَاهُدى سَبِيلًا کہ تو کہہ دے کہ ہر شخص اپنی تخلیق ، اپنی تشکیل کے مطابق کام کرتا ہے اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے ، وہی جانتا ہے جو تمہارا رب ہے کہ تم میں سے کون زیادہ صحیح رستے پر تھا یا زیادہ صحیح رستے پر ہے۔دوسری طرف قرآن کریم یہ فرماتا ہے کہ جو بت پرست ہیں ، جو شرک