خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 610 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 610

خطبات طاہر جلد 15 610 خطبہ جمعہ 2 راگست 1996ء گھروں میں کرنا ہوگا۔اس بات کو ہم اکثر بھول جاتے ہیں کہ جب ہم قومی باتیں کرتے ہیں تو ان باتوں کا آغاز گھروں سے ہوا کرتا ہے۔بچوں کی تربیت میں میرا ساری زندگی کا تجربے کا نچوڑ یہ ہے کہ ان سے آپ نیکی کے معاملات میں تعاون کریں اور تحکم کی بجائے تعاون لیں تو کبھی وہ معصیت نہیں کریں گے۔کبھی آپ کی نافرمانی کا تصور بھی ان کے دماغ میں نہیں آسکتا۔اور یہ ہر اس گھر کا جائزہ بتاتا ہے جہاں بچوں کی تربیت اس رنگ میں کی گئی ہے کہ ماں باپ ان کے کاموں میں ان کے لئے جھکتے ہیں ، ان سے تعاون کرتے ہیں اور حکم دیئے بغیر تعاون چاہتے ہیں اس وقت بچوں کی نگاہیں اپنے ماں باپ کی رضا پر لگی رہتی ہیں۔ان کو ہرگز ڈانٹنے کی کوئی ضرورت نہیں کسی سزا کی ضرورت نہیں ، آپ کی نظروں میں ذراسی مایوسی کے آثار پائیں بے قرار ہو جاتے ہیں ،تڑپ اٹھتے ہیں۔جب تک وہ آپ کے چہرے پر خوشی کے آثار نہ دیکھ لیں ان کو چین نہیں ملتا۔ایسے بچے نافرمان کیسے ہو سکتے ہیں۔ایسے بچے آپ کی اطاعت کے دائرے سے دور کیسے جا سکتے ہیں۔تو جہاں اپنے گھر میں یہ تجربہ نہ کیا ہو وہاں جماعت میں بھی یہ تجربہ نہیں ہوگا۔گھروں کو تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقوی کی آماجگاہ بنا دیں۔یہاں یہ تعاون کی روح پرورش پائے پھر جب گھروں سے نکل کر گلیوں میں جائے گی تو اسی طرح تعاون کی روح ماحول کو تعاون کرنے پر مجبور کرتی چلی جائے گی۔یہ طاقت ور اور غالب آنے والی روح ہے اور لازماً اس کو غلبہ نصیب ہوتا ہے۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ اس تعلق میں خواہ جلسوں کے انتظام ہوں ، مہمانوں کا تعلق ہو، یہاں بھی آپ نے دیکھا ہر آنے والے سے تعاون کیا گیا ہے خواہ وہ جرمنی جماعت تھی یاBelgium کی جماعت تھی یا اکیلا کہیں سے آنے والا تھا۔قطع نظر اس کے کون آیا ، کہاں سے آیا ، اس کا حق کیا بنتا ہے؟ خدا کے فضل سے UK جلسے کی انتظامیہ نے ہر ایک سے تعاون کیا اور جرمنی میں بعینہ یہی ہوتا ہے، ایک ذرہ بھی فرق نہیں Belgium میں بعینہ یہی ہوتا ہے ، ہالینڈ میں بالکل اسی طرح ہوتا ہے، ناروے میں اسی طرح ہوتا ہے۔جہاں جہاں میں جاتا ہوں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس پہلو سے میں جماعت کو بہت مستعد پاتا ہوں کہ ہر آنے والے کے ساتھ نیکی کی وجہ سے تعاون ہو رہا ہے اس سے کوئی غرض نہیں، کچھ دینا نہیں ، تکلیف اٹھا کے بھی تعاون کیا جاتا ہے۔پس اس میں ہماری زندگی کا راز ہے ہماری بقاء کا راز ہے اور قوموں میں جس اصلاح کے