خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 601
خطبات طاہر جلد 15 601 خطبہ جمعہ 2 راگست 1996ء دائرے سے الگ ہے۔پس جب بھی آپ آواز بلند کرتے ضرور لبیک کی آواز میں اٹھا کرتیں اور ضرورت حقہ میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں یعنی وہ تمام ضروریات حلقہ جو جائز ضروریات ہیں ان میں آپ کا جہاں تک بس چلے آپ مدد کرتے ہیں۔یہ وہ صفات ہیں جن کو خدا کبھی ضائع نہیں کر سکتا اور جس وجہ سے آپ گھبرا رہے تھے اس کا جواب اسی میں ہے۔اس سے بہتر کون ہے جو خدا کی طرف سے مامور کیا جائے۔جس میں یہ صفات پائی جائیں وہی تو مطاع بننے کے اہل ہے۔جو خود سب کا مطیع ہو گیا، تمام نیک کاموں میں ہر ایک کے سامنے جھک گیا وہی اس لائق ہے کہ اسے مطاع بنایا جائے اور یہی وہ مضمون ہے جس کی طرف میں آپ کو آج خصوصیت سے توجہ دلانا چاہتا ہوں۔آپ دنیا میں دعوت الی اللہ کا پیغام لے کے نکلیں ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ لوگ آپ سے نہ صرف تعاون کریں گے بلکہ آپ کو اپنا سردار مانیں گے۔جو آپ کہیں گے کہ دین یہ ہے وہ آپ کی بات تسلیم کریں گے۔جس طرف بلائیں گے آپ کے پیچھے چلیں گے۔تو اس سے پہلے ایک نبوت کا مرتبہ حاصل کرنا ضروری ہے یعنی نبوت کا وہ مرتبہ جو نبوت کے انعام سے پہلے صفات کی صورت میں عطا کیا جاتا ہے اور آنحضرت ﷺ کی پیروی اور غلامی کے لئے لازم ہے کہ ان تمام صفات کو اختیار کیا جائے جو حضرت اقدس کی نبوت سے پہلے بھی تھیں اور جن کو تفصیلاً بیان فرمائے بغیر اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَ تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقوی اور اس میں مشرکوں سے تعاون بھی تھا۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے آنحضرت ﷺ کو صلى الله جب بعد ازاں ، نبوت کے بعد حلف الفضول کا حوالہ دے کر ابو جہل سے کسی کا حق دلوانے کے لئے بلایا گیا تو آنحضورہ اسی وقت روانہ ہو گئے یعنی مشرکوں سے تعاون اور مشرکوں سے تعاون لے رہے ہیں اور یہ وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقوی کی بہترین مثال ہے۔دوسری بات وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقوی میں یہ بھی داخل ہے یعنی علی کا جو صلہ ہے یہ دو معنی پیدا کرتا ہے۔نیک کاموں میں تعاون کرو اور تقویٰ میں تعاون کرو اور نیکی کی بناء پر تعاون کرو اور تقویٰ کی بناء پر تعاون کرو۔یہ جو مضمون ہے یہ دوسرے دنیا کے بہت سے تعاون کرنے والے مضامین سے اس مضمون کو الگ کر دیتا ہے۔آپ دیکھتے ہوں گے دنیا میں نیک کاموں کے لئے تعاون غیر قوموں میں بھی ملتا ہے مگر اللہ کی خاطر تعاون اور نیکی سے محبت کی بناء پر تعاون دو چیز یں اکٹھی کم ملتی ہیں۔ملتی تو ہیں لیکن شاذ کے طور پر، ایک قومی کردار کے طور پر نہیں ملتیں۔بسا اوقات یہ جوتحریکات ہیں غریبوں کی ہمدردی