خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 600
خطبات طاہر جلد 15 600 خطبہ جمعہ 2 راگست 1996ء پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔کوئی ایسی خبر ہو جس کی توقع نہ ہو جس کو انسان اپنے متعلق سوچ بھی نہ سکتا ہو۔پس جتنا شدید حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کا بحران تھا اتنا ہی آپ کی سچائی پر گواہ تھا اور آپ کی انکساری پر گواہ تھا۔یہ وہم وگمان میں بھی نہیں آپ کے آسکتا تھا میں خدا کا نمائندہ بن کے بنی نوع انسان کو مخاطب ہوں گا۔اگر نفس میں ادنیٰ بھی یہ خواہش ہوتی تو وہ بحران پیدا ہونا ناممکن تھا۔اس حالت میں جب آپ کی بے قراری دیکھی تو حضرت خدیجہ نے تسلی دینے کے لئے یہ الفاظ عرض کے کلا والله ما یخزیک الله ابدا ہرگز نہیں، ہرگز نہیں ،خدا کی قسم اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں۔وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى کا نام ہے یہ وہ رشتے جو قریب کے رشتے ہیں ان کو جوڑنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ہر وہ کام کرتے ہیں جس سے آپس کی خاندانی محبتیں بڑھیں اور ہر ایک کے ذمے یہ کام ہے نہیں کہ گویا فرض ہے اس کے لئے۔اپنے معاملے میں تو حقوق ادا کرنا فرض ہے مگر ایسے کام کرنا کہ رشتے جڑتے چلے جائیں اور رحمی تعلقات آپس میں مضبوط تر ہوں یہ وہ نیکی کا کام ہے جو وَ تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ ہے۔کمزوروں کے بوجھ اٹھاتے ہیں۔اب کس پر یہ فرض ہے کہ ہر وقت کمزوروں کے بوجھ اٹھاتا پھرے اور شریعت تو ابھی نازل بھی نہیں ہوئی تھی۔آنحضرت یہ شریعت کے نزول سے پہلے مفلوک الحال ، غریب لوگوں کے لئے ایک رحمت تھے، مجسم رحمت تھے۔ان کا ہر دکھ بانٹا کرتے تھے۔ان کی ہر مصیبت کو دور کرنے کے لئے کوشاں رہا کرتے تھے اور معدوم اور نا پید نیکیاں کماتے ہیں۔وَتَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى کی مثالیں دیکھیں کیسی عجیب مثال ہے۔الله عام نیکیاں جو معروف ہیں ان کو کرنا بھی تعاون ہی ہے لیکن جو نیکیاں ناپید ہو چکی ہوں، انسانی نظر سے غائب ہوگئی ہوں ان کو دوبارہ زندہ کردیں اور پھر ان پر عمل کر کے دکھائیں۔انہوں نے عرض کیا آپ میں تو یہ باتیں ہیں اور مہمان نوازی کرتے ہیں۔جو پھر تعاون کا معنیٰ ہے ورنہ مہمان نوازی کب فرض ہے۔اگر فرض ہوتا تو زبر دستی کوئی حکومت کوئی مذہب لوگوں کے گھروں میں مہمان داخل کر لیتا۔یہ تعاون کا مضمون ہے۔تبھی حضور اکرم ﷺ کے جب مہمان آتے تھے تو مسجد میں بعض دفعہ اعلان کیا کرتے تھے کون ہے جو میری مدد کرے گا۔یہ تعاون مانگنے کا ایک طریق تھا۔حکم دے سکتے تھے مگر نہیں دیتے تھے۔جانتے تھے کہ مہمان نوازی کا دائرہ حکام کے