خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 577 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 577

خطبات طاہر جلد 15 577 خطبہ جمعہ 26 جولائی 1996ء عزیز اور حکیم ہونے میں کائنات کی ہر چیز خدا کی عزت اور اس کی حکمت پر گواہ ہے تو اللہ کی گواہی خود عدل پر قائم ہے۔اگر محض اس وجہ سے خدا اپنی گواہی لوگوں سے منوائے کہ میں غالب ہوں میری گواہی مان لو تو یہ گواہی اپنی ذات میں بھی عدل کے خلاف ہو جائے گی لیکن اگر کوئی منصف یہ کہے کہ میری گواہی مانو کیونکہ میں علم کے زور سے اور حقیقت کے زور سے غالب ہوں نہ کہ جبر کے زور سے عزیز میں اور جابر میں یہی بڑا فرق ہے۔عزیز اس ذات کو کہتے ہیں جو علم کی طاقت سے عزت والا غلبہ حاصل کرے اور بزرگی پائے اور صاحب علم کی بزرگی میں کوئی جبروت نہیں کوئی زبردستی نہیں کوئی ڈکٹیٹر شپ نہیں ہے بلکہ علم اپنی ذات میں ایک طاقت بھی ہے اور عزت بھی ہے اور پھر اس کے ساتھ اگر حکمت بھی آجائے، ہر علم کے پیچھے جو حکمتیں ہیں تہہ بہ تہہ نہ ختم ہونے والی حکمتوں کا سلسلہ ہے۔وہ بھی اگر اس بات پر گواہ ٹھہرے کہ یہ گواہی دینے والا جس نے یہ کائنات بنائی صرف اس کائنات میں ایک ہی وجود کا ثبوت ملتا ہے جو عزیز ہے اور جو حکیم ہے۔پس اس پہلو سے اس گواہی میں ایک بڑی عظمت پیدا ہو جاتی ہے۔مگر جس تعلق میں خاص طور پر میں آپ کے سامنے یہ آیت رکھ رہا ہوں وہ آپ کی ذات کا تعلق ہے اور میری ذات کا تعلق ہے۔ہم جب کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہماری گواہی کے حق میں ہمارے اندر کون سے ایسے شواہد ہیں یعنی گواہی کے حق میں کون سے گواہ ہمارے اندر موجود ہیں جو دنیا کو یقین دلا سکیں کہ ہم اس گواہی میں سچے ہیں۔وہ گواہی کردار کی گواہی ہو سکتی ہے اور علم کی گواہی ہوسکتی ہے اور حکمت کی گواہی ہو سکتی ہے۔علم اور حکمت کی گواہی سے مراد یہ ہے کہ ہم جب گواہی دیتے ہیں مثلاً روزانہ نماز میں پانچ وقت یہ پڑھتے ہیں اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له واشهد ان محمداً عبده ورسوله تو کبھی ہم نے غور کیا کہ ہم گواہی کس برتے پر دے رہے ہیں۔ہمیں خدا کا کیا ذاتی علم ہے اور خدا کی حکمتوں سے ہم نے کس حد تک حصہ پایا ہے۔آج کون سا نیا مضمون لے کے ہم اٹھے ہیں کہ از سرنو گواہی کو دہرارہے ہیں اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شریک له و اشهدان محمداً عبده ورسوله اگر یہ گواہی خالی ہو، نہ ہمیں خدا کا علم ہو، نہ خدا کی حکمتوں سے واقف ہوں۔خدا کا علم مکمل تو ناممکن ہے اتنا ہی ہوتا ہے جتنا وہ عطا فرماتا ہے مگر عطا انہی کو فرماتا ہے جو اس میں جستجو کرتے ہیں اور حکمتوں پر بھی کوئی محیط نہیں ہوسکتا وہ