خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 576
خطبات طاہر جلد 15 576 خطبہ جمعہ 26 / جولائی 1996ء تقاضے ہم نے کل عالم میں پورے کرنے ہیں ، حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جس طرح ان کو سمجھا اور جس طرح پیش فرمایا آپ کے حوالے سے توحید کا وہ مضمون آپ کے سامنے رکھوں۔خطبہ میں توحید کے مضمون کا تعلق ہر احمدی کی ذات سے ہے اور خود میری ذات سے بھی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ ہم دنیا میں توحید کا قیام کرہی نہیں سکتے جب تک اپنے نفس میں تو حید کا قیام نہ کریں اور قیام توحید کا فقسط سے ایک گہرا اور اٹوٹ تعلق ہے۔قسط سے مراد ہے انصاف۔انصاف کے لئے اگر چہ مختلف الفاظ استعمال ہوئے ہیں لیکن قسط اس مضمون میں ایک خاص مناسبت رکھتا ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہاں لفظ قسط کو اختیار فرمایا۔قرآن کریم فرماتا ہے شَهِدَ اللهُ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ اللہ گواہی دیتا ہے کہ اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے وَالْمَلَكَةُ وَأُولُوا الْعِلْمِ اور ملائک بھی یعنی فرشتے اور صاحب علم لوگ بھی اسی طرح خدا کے ساتھ گواہی دے رہے ہیں۔مگر ان کی گواہی اللہ کے ذیل میں آکر کام دکھاتی ہے اپنی ذات میں اس کی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ بعد میں یہ نہیں فرمایا قائمين بالقسط یہ سب کے سب انصاف کو قائم کرنے والے ہیں بلکہ قائما بالقسط کہ کر فرمایا کہ اللہ کی گواہی سب سے اہم اور سب سے زیادہ قابل قبول ہے کیونکہ وہ قسط پر قائم ہے اور قسط کو قائم کرنے والا ہے۔قسط سے مراد جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے عرف عام میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ انصاف ہے اور کوئی گواہ بھی جب تک انصاف پر مبنی نہ ہو اس کا انصاف پر قدم نہ ہو اس کی گواہی قابل قبول نہیں ہوسکتی۔پس ملائکہ اور اُولُوا الْعِلْمِ اس لئے قابل قبول ہیں کہ خدا ان کو اپنی گواہی کے ساتھ شامل فرماتا ہے اور اس کے قسط کی ذیل میں ملائکہ بھی آجاتے ہیں اور اُولُوا العِلمِ بھی آجاتے ہیں۔مگر اصل گواہی خدا ہی کی ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی گواہی ممکن نہیں ہے۔لا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے الْعَزِیزُ وہ غلبے والا اور بزرگی والا ہے الْحَکیم اور حکمت والا ہے۔پس ساری کائنات میں یہ گواہی پھیلی پڑی ہے اور جب خدا کہتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں تو ہم اس وجہ سے نہیں مانتے کہ ہمیں آواز آرہی ہے قرآن کی طرف سے کہ اللہ نے گواہی دے دی۔وَهُوَ الْعَزِیزُ الْحَكِيمُ میں اس گواہی کی عظمت اور اس کا وقار اور حکمت سب بیان ہوگئیں گویا تمام کائنات پر نظر ڈال کے دیکھو اس میں ایک عزیز اور حکیم خدا کا ہاتھ دکھائی دے گا۔پس جب