خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 52 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 52

خطبات طاہر جلد 15 52 52 خطبہ جمعہ 19 /جنوری 1996ء پانچ نمازیں سورج کی علامتوں کے لحاظ سے ایک دوسرے سے ممتاز کی جاسکتی ہیں۔جہاں وہ نمازیں ممتاز نہیں ہوسکتیں وہاں اندازہ شروع اور پھر کوئی مشکل باقی نہیں رہتی۔تو اس لئے یہ قرآن کریم کا کمال ہے کہ رمضان مبارک کو چاند کے ساتھ جو باندھا ہے اب میں اس طرف واپس آرہا ہوں ، اس میں حکمت یہ ہے کہ یہ مہینہ جگہ جگہ بدلتا رہتا ہے۔کبھی یہ جنوب والے لوگوں کے لئے آسان ہو جاتا ہے، کبھی شمال والوں کے لئے۔پس ایسے موقع پر اگر یہ سورج والا مہینہ ہوتا تو بعض لوگوں پر ہمیشہ بہت ہی سخت رہتا۔لمبے سے لمبا دن اور پر آزار دن جس میں گرمی سے لوگوں کی زبانیں سوکھ جاتیں اور تڑپ تڑپ کے بعض جان دے دیتے۔ہمیشہ مسلسل ایسی ہی تکلیف لے کر ان کے لئے آتا اور بعض جگہ اتنا چھوٹا ہوتا اور موسم بھی ٹھنڈا کہ ان کو پتا ہی نہیں لگتا بلکہ ان کے لئے یہ مصیبت ہوتی کہ کھائیں کیسے۔ایک روزہ افطار بھی کریں اور سحر بھی کریں ، بیچ میں تہجد بھی پڑھیں، چند گھنٹوں کے اندر یہ ممکن نہیں ہے۔پس کتنے گھنٹے کے لئے ممکن ہے اس کی علامتیں ساتھ بیان فرما دی گئیں کہ جہاں سورج کی علامتوں سے عبادتیں کھل کے واضح ہوں ، جہاں رمضان پر یہ بات صادق آئے کہ سفید دھاگہ کالے دھاگے سے ممتاز ہو سکے وہ دن معمول کے دن ہیں۔جہاں ان میں کوئی علامت اطلاق نہ پائے وہاں تم نے اندازے کرنے ہیں۔مگر معمول کے دنوں میں بھی تو بہت فرق ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے احسان فرمایا کہ وَتِلْكَ الأَيَّامُ نُدَاوِ لُهَا بَيْنَ النَّاسِ ( آل عمران: 41(1) کا مضمون رمضان سے بھی باندھ دیا اور رمضان چکر کھاتا رہتا ہے۔کبھی سخت روزے آتے ہیں اور وہ اپنا سبق سکھا کے چلے جاتے ہیں کہیں نرم روزے آتے ہیں تو راتوں کی جفا کشی بڑھ جاتی ہے۔پس کبھی دن کی سختی کے مزے ہیں کبھی رات کی لمبائی کے مزے ہیں۔کبھی ایک ابتلاء ہے کبھی دوسرا کبھی ایک انعام ہے کہیں دوسرا۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان ایام کو آپس میں پھیر رکھا ہے۔پس رمضان ہی وہ مہینہ ہے جس میں سورج اور چاند دونوں اکٹھے عبادتوں پر گواہ بنتے ہیں۔ورنہ سارا سال سورج تو بنا رہتا ہے چاند گواہ نہیں بنتا۔توفیهِ الْقُرْآنُ میں ایک یہ بھی مضمون ہے کہ کوئی چیز رمضان میں باقی ہی نہیں رہی جس کا بیان نہ ہوا ہو قرآن کریم میں۔قرآن میں چاند والی عبادتوں کا بھی ذکر ہے، سورج والی عبادتوں کا بھی ذکر ہے ، رمضان میں یہ بھی دونوں اکٹھی ہو گئیں۔