خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 51 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 51

خطبات طاہر جلد 15 51 خطبہ جمعہ 19 /جنوری 1996ء اجازت دی اور اس میں حکمت ظاہر وباہر ہے۔اول تو یہ کہ لمبے روزے میں تو سارے ہی شہید ہو جاتے ایک ہی روزے میں اور چھوٹے روزے کا پتا ہی نہ لگتا کہ کیسے رکھیں وہ ایک تماشا سا بن جاتا مگر جہاں بھی یہ اجنبی دن چڑھتے ہیں خواہ وہ ایک دن کے چوبیس (24) گھنٹے کے دائرے میں بھی رہیں تو قرآن کریم کا کمال یہ ہے عبادت کی علامتیں ایسی بتائی ہیں کہ وہاں علامتیں عبادت کو ان دنوں کے اندر ساکت کر دیتی ہیں اور اندازہ شروع ہو جاتا ہے۔یعنی غیر معمولی دن کیلئے ضروری نہیں کہ چوبیس گھنٹے سے لمبا ہو۔چوبیس گھنٹے سے قریب دن پہنچا ہوا ہو تب بھی وہ ناممکن دن بن جائے گا اور جہاں وہ ناممکن دن بنے گا وہیں سے اندازہ شروع ہو جائے گا۔اس کی مثال میں آپ کو سمجھا دوں کیونکہ ناروے سے بھی مجھے سوال آئے ہوئے ہیں بعض دوسرے ملکوں سے بھی اس لئے میں اس خطبے میں ساری باتیں کھول رہا ہوں کیونکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے اکثر احمدی جہاں جہاں بھی اب یہ آج کل ٹیلی ویژن پہنچ رہی ہے، یہ خطبہ سنتے ہیں ہن رہے ہیں ، بات یہ ہے کہ اگر دن فرض کریں اٹھارہ گھنٹے کا ہو یعنی سورج نکلنے سے ( روزے کی بات نہیں کر رہا ) دن سورج نکلنے سے سورج غروب ہونے تک اٹھارہ گھنٹے ہوں تو پیچھے چھ گھنٹے کی جورات رہ جائے گی اس رات میں صبح اور شام کی شفق اتنی پھیل چکی ہوں گی کہ ان کے درمیان سیا ہی آئے گی ہی نہیں۔پس جب سیاہی غائب ہو گئی تو نمازوں کی تقسیم ممکن نہ رہی۔مغرب کس وقت پڑھیں گے،عشاء کس وقت پڑھیں گے ، تہجد کس وقت ہوگی صبح کس وقت طلوع ہوگی یہ ایک ہی چیز ہو جاتی ہے۔چنانچہ ہم نے خود یہ ایسے دن دیکھتے ہیں جب ہم گرمیوں میں ایک دو سال پہلے ناروے گئے تھے شمال کی طرف تو جہاں چوبیس گھنٹے کا دن شروع ہو چکا تھا وہاں تو بالکل ہی معاملہ اور ہے۔وہاں تو صبح بھی سورج، دو پہر کو بھی ، رات کو بھی ، آدھی رات کو بھی اور سورج نکلے ہوئے میں تہجد پڑھنی پڑتی تھی مگر صلى الله اندازے کر کے کیونکہ آنحضرت له اصدق الصادقین ہیں، سب بچوں سے بڑھ کر بچے اور یہ ایک بات بھی آپ کی سچائی پر سورج سے بڑھ کر زیادہ روشن گواہ بن جاتی ہے۔اس اندھیرے زمانے میں اتنی روشنی سے چودہ سو سال بعد کے حالات معلوم کئے اور ان پر روشنی ڈالی۔اتنی دور تک روشنی ڈالنے والا نبی اس شان کا کوئی دکھاؤ تو سہی۔فرمایا وہ ہوں گے جب بھی وہ دن عام عادت سے بدل چکے ہوں۔آپ نے فرمایا ہے روز مرہ کے عادی دنوں کے مطابق انداز سے کرنا۔عادی دن وہ ہیں جن میں