خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 556
خطبات طاہر جلد 15 556 خطبہ جمعہ 19 جولائی 1996ء طرح اکٹھے نہیں ہوتے جیسے انگلستان کے جلسے میں آتے ہیں اس لئے اس پہلو سے اسے ایک مرکزیت حاصل ہو گئی ہے اور وہ آتے ہیں جن کا انتظار رہتا ہے۔بعض چہرے دیکھنے کو آنکھیں ترستی ہیں۔خاص طور پر اپنے مظلوم بھائی ،مظلوم بہنیں ، مظلوم بچے جو پاکستان سے آتے ہیں۔اترے ہوئے، دکھے ن چہرے آتے ہیں تو کھلکھلا اٹھتے ہیں۔نئی زندگی نئی تازگی پیدا ہوتی ہے۔خوشیاں بھی لاتے ہیں غم بھی لاتے ہیں اور بیک وقت ایسی کیفیت میں وقت گزرتا ہے کہ اس کا بیان ممکن نہیں لیکن جلسے کی عادت یہ ہے کہ مدتوں انتظار کراتا ہے راہ دیکھتے چلے جاتے ہیں۔جب آتا ہے تو ایسے گزر جاتا ہے جیسے پلک جھپکنے میں نکل گیا۔یہ وصل کی کیفیت کا حال ہے اور محبت کے طبعی تقاضے ہیں۔ایک ایسی ہی کیفیت کو بیان کرنے کے لئے میں نے ایک دفعہ، اپنے ایک شعر میں یوں کوشش کی تھی کہ لمحات وصل جن یہ ازل کا گمان تھا چٹکی میں اڑ گئے وہ طیورِ سُرور شب یعنی وہ لمحات وصل کے جب تھے تو لگتا تھا کہ ازل آگئی ہے ، وقت ٹھہر گیا ہے اور جب گزرے تو یہ رات کے پرندے لگتا تھا ( کلام طاہر: 111) کہ چٹکی میں اڑ گئے۔تو امر واقعہ یہ ہے کہ یہی وہ کیفیت ہے جو بعض از لی صداقتوں کی طرف انسان کے ذہن کو منتقل کر دیتی ہے۔چنانچہ اس مضمون پر غور کرتے ہوئے مجھے جنت کی ازل کی حقیقت سمجھ آگئی اور جہنم تھوڑے وقت کے ہونے کے باوجود کیوں لا متناہی دکھائی دے گی اور کیوں جہنم کو بھی ابدی کہا گیا ہے وہ راز بھی سمجھ میں آ گیا۔جنت کا ہمیشہ ہمیش کے لئے ہونا ایک لازمی حقیقت ہے جس کے سوا چارہ نہیں ہے کیونکہ اگر دنیا میں انسانی وصل کے تجارب اتنا گہرا اثر انسان پر چھوڑتے ہیں کہ آنے والوں کی موجودگی میں تو وقت لگتا ہے ٹھہر گیا ہے، ہمیشہ کے لئے یہی وقت ہے اس سے زیادہ آگے اور پیچھے کا کوئی دھیان باقی نہیں رہتا اور جب گزرتا ہے تو یوں لگتا ہے آنا فانا گزر گیا ایک لمحے کے لئے بھی نہیں ٹھہرا۔اگر وصل الہی، جس کو دنیا کے وصل کے مقابل پر ایک لامتناہی عظمت حاصل ہے اس کی رفعتوں کا انسان تصور نہیں کر سکتا، اس کا سوچیں اگر وہ کسی محدود عرصے کے لئے جنت ہوتی تو وہ جنت