خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 545
خطبات طاہر جلد 15 545 خطبہ جمعہ 12 جولائی 1996ء کی تاریخ سے تعلق رکھنے والے واقعات ہیں۔ان کو سجا کر ایسی دلکشی کے ساتھ پیش کیا جا سکتا ہے کہ کوئی انسان بھی یہ نہ سمجھے کہ تقریر ہورہی ہے۔اب جب بھی وڈیو کی توقع کی جاتی ہے یہ مراد نہیں ہے کہ ایک آدمی آ کے بیٹھ جائے اور تقریر شروع ہو جائے۔تقریریں تو بہت ہوتی ہیں ہمارے ہاں اور احمدیوں میں تقریر سنے کا حوصلہ بھی بڑا ہے۔چھ چھ سات سات گھنٹے بیٹھ جانا کوئی معمولی بات تو نہیں۔دنیا میں ہے کون جو اتنے صبر کے ساتھ تقریریں سن سکے۔مگر یہ تو نہیں کہ اب صبر کا امتحان ختم ہی نہ ہو اور یوں صبر پر بوجھ ڈالیں کہ یہاں تک کہ صبر ٹوٹ جائے۔اس لئے یا درکھیں ٹیلی ویژن کا مقابلہ دوسرے دنیا کے ٹیلی ویژنز کے ساتھ ہے۔وہاں بہت بڑے بڑے دلچسپ ایسے پروگرام پیش کئے جاتے ہیں جو اکثر مخرب الاخلاق ہیں ، اکثر اخلاق کو برباد کرنے والے ہیں اور کوئی بھی ٹیلی ویٹرن خواہ وہ دینی کہلائے یا غیر دینی جب تک میوزک نہ پیش کرے اس وقت تک اس کی بات نہیں بنتی۔جب تک لغو اشتہار نہ دکھائے اس وقت تک اس کا گزارا نہیں ہوتا۔تو ہم ایک ہی وہ ٹیلی ویژن کا نظام پیش کر رہے ہیں جو سب سے مستنی ، سب سے الگ ہے اور اس میں جان ڈالے رکھنا یہ ہمارا فرض ہے اور اپنی جان ڈالنی پڑتی ہے۔ہم کوئی خدا تو نہیں کہ ہمارے امر کے ساتھ جان پڑ جائے۔ہر بندہ جو محنت کرتا ہے ، دل لگا کے محنت کرتا ہے فی الحقیقت تو اپنی جان ہے جو اپنے پروگراموں میں، اپنی تخلیق میں ڈالتا ہے۔اس پہلو سے ایسی ٹیموں کی ضرورت ہے جو ہر ملک میں طوعی طور پر اپنے سپر د ذمہ داریاں کر لیں اور جب وہ پروگرام بنا ئیں تو اس سے پہلے پروگرام بنانے کے تعلق میں جتنی میں نے نصیحتیں کی ہیں ان سب کو یکجائی صورت اپنے پاس رکھیں اور ان کو غور سے سنیں یا تحریر میں ہیں تو ان کو غور سے پڑھیں تا کہ یہ نہ ہو کہ پروگرام بنائیں اور بعد میں پتا چلے کہ یہ ہمارے مقصد کا نہیں اس میں یہ نقص رہ گئے ہیں۔تو پروگرام کا تجربہ یہ بھی تو ایک لمبا عرصہ چاہتا ہے۔اس لئے کچھ بنانے تو شروع کریں اور ہر پہلو سے اپنے اپنے ممالک کی تصویر کو اس طرح پیش کریں کہ ایک سننے والے کی تشنگی دور ہو اور امکانات جو ہیں اس ملک کے ان کو بھی کھول کر سامنے رکھیں۔اب یوگنڈا کی بات ہو رہی تھی اسی حوالے سے یوگنڈا میں تجارت کے کیا کیا امکانات ہیں۔کون سی انڈسٹری لگ رہی ہے۔اس کا کیا حال ہے، اس کی مشکلات کیا کیا ہیں۔اگر بد دیانتی