خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 542 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 542

خطبات طاہر جلد 15 542 خطبہ جمعہ 12 جولائی 1996ء آپ اگلا مصرعہ پڑھنا بھول گئے اور شاید وہ مصرعہ پڑھ کر مضمون مکمل ہونا تھا۔اس لئے ہم انتظار کرتے رہے کہ وہ مصرعہ بھی پڑھا جائے تو بات مکمل ہوگی۔اس میں میرے بھولنے کا کوئی دخل نہیں ہے۔بھول تو میں جایا کرتا ہوں وہ قصور اپنی جگہ ہے لیکن اس موقع پر میری بھول چوک کا کوئی دخل نہیں ہے۔اس حدیث میں ایک ہی مصرعہ تھا تو میں حدیث کی طرف دوسرا مصرعہ کیسے منسوب کر دیتا۔میں شاعر کی نمائندگی تو کر ہی نہیں رہا تھا۔میں تو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے جذبات کی نمائندگی کر رہا تھا۔الا كـل شـيء ما خلا الله باطل یہ مصرعہ تھا جس کا ذکر حضور نے فرمایا کہ کیاہی پیارا شعر ہے لیکن اگلا مصرعہ جو ہے وہ ان کو پسند آیا لکھنے والے کو ، اچھا مصرعہ ہے لیکن حدیث میں موجود 66 نہیں۔’و کل نعيم لا محالة زائل ہر نعمت لامحالہ، بے شک ضرور زائل ہو جائے گی اور باقی نہیں رہے گی۔تو یہ مصرعہ تو اچھا ہے مگر سوال یہ ہے کہ آنحضور ﷺ نے کیا عمداً اسے نظر انداز فرمایا اور ایک ہی مصرعہ کو پسند کیا یا راوی نے پورا شعر یاد نہیں رکھا اور صرف ایک مصرعہ بیان کر کے آنحضوری کی تحسین کا ذکر فرما دیا۔میرے نزدیک راوی کی یادداشت کا قصور نہیں ہے کیونکہ یہ ایک معروف شعر تھا جس کے متعلق اور بھی واقعات بیان کئے جاتے ہیں اور عرب تو شعر یا در کھنے میں تمام دنیا پر فوقیت رکھتے تھے۔بعض ایسے عرب تھے جو ایک ایک لاکھ شعر یادرکھتے تھے یا جن کو یاد ہوتے تھے۔بڑے لمبے لمبے قصیدے یاد ہوتے تھے۔اس لئے وہ مصرعہ حضور اکرمے نے نظر انداز فرمایا ہوگا یہ میرا رجحان ہے اور اس کی ایک وجہ ہے۔وکل نعیم لا محالة زائل میں ایک ایسا مضمون ہے جس کا مذہب سے تعلق نہیں ہر انسان کی ایک بے ساختہ مجبوری ہے جس سے اس کا تعلق ہے۔ہر نعمت ہر شخص کو پیاری لگتی ہے اور نعمت کے زائل ہو جانے کے شکوے ہر زبان پر رہتے ہیں خواہ وہ دہر یہ شاعر ہو یا غیر دہر یہ ہو۔تو وہ چیز جو ہر انسان کی بے اختیاری سے تعلق رکھتی ہے وہ تو آنحضور کو پسند نہیں آئی۔جس چیز نے دل پر اثر کیا ہے وہ پہلا مصرعہ ہی تھا۔الا كل شيء ما خلا الله باطل خبر دار خدا کے سوا کوئی چیز بھی سچی نہیں ، صرف ایک ہی سچا ہے۔ایک ہی ہے جو اپنی ذات میں حق ہے باقی ہر چیز باطل ہے۔اب یہ مصرعہ ایسی بلندشان کا ہے کہ دوسرا مصرعہ اس کے ساتھ کچھ مناسبت نہیں رکھتا۔شعری مضمون کے لحاظ سے تو مناسبت رکھتا ہے لیکن عرفان کے اعتبار سے یہ اس مصرعہ سے مناسبت نہیں رکھتا۔پس اس پہلو سے میرا یہ تصور ہے جو میں نے غور کیا ہے کہ آنحضور ﷺ نے عمداً اس کو چھوڑا