خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 48 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 48

خطبات طاہر جلد 15 48 خطبہ جمعہ 19 /جنوری 1996ء عید نہیں کریں گے یا ایسا رمضان شروع نہیں کریں گے اور وہ بچے تھے کیونکہ اگر وہ مولوی صاحبان ان لیبارٹریز سے یا جو ان کے مراکز ہیں آسمانی سیاروں وغیرہ کو دیکھنے کے ان سے پوچھتے تو وہ صاف بتا دیتے کہ نکلے گا تو سہی لیکن تم اس کی شہادت نہیں دے سکتے ہم اپنی آنکھ سے اس کو کبھی بھی نہیں دیکھ سکتے کیونکہ جتنا نکل کے وہ اونچا جاتا ہے اس طلوع سے کوئی آنکھ بھی اس کو اس لئے نہیں دیکھ سکتی کہ وہ زمین کے بہت قریب ہوتا ہے اور زمین کے قریب کی فضا اس کی شعاعوں کو نظروں تک پہنچنے سے پہلے پہلے جذب کر چکی ہوتی ہے۔اس لئے عین نشانے پر پتا ہو کہ وہاں چاند طلوع ہو رہا ہے آپ نظر جما کے دیکھیں آپ کو ایک ذرہ بھی کچھ دکھائی نہیں دے گا تو شھد کا مضمون اس پر صادق نہیں آئے گا۔شھد کا مطلب ہے جو گواہ بن جائے ، جودیکھ لے، جو پالے۔مگر سائنس دان ہی یہ بھی آپ کو بتاتے ہیں اور قطعیت سے بتاتے ہیں کہ اگر اتنے منٹ سے اوپر چاند ہو چکا ہو یعنی سورج ڈوبنے کے بعد مثلاً پندرہ منٹ کی بجائے بیس منٹ تک رہے تو پہلے پندرہ منٹ میں اگر دکھائی نہیں دے سکتا تو آخری پانچ منٹ میں دکھائی دے سکتا ہے یا اس کا زاویہ اتنا ہو کہ وہ زمین کے ایسے افق سے اونچا ہو چکا ہو جو افق چاند اور ہماری راہ میں حائل رہتا ہے، اس سے جب اونچا ہوگا تولا زماد یکھ سکتے ہو۔پھر بادل ہوں تو الگ مسئلہ ہے لیکن اگر بادل نہ ہوں تو لاز ماننگی آنکھ سے دیکھ سکتے ہو تو پھر شَهِدَ مِنْكُمُ کا حکم صادق آگیا کیونکہ شَهِدَ میں ساری قوم کا دیکھنا تو فرض تھا ہی نہیں۔کچھ بھی دیکھ سکتے ہوں لیکن اس طرح دیکھ سکتے ہوں جیسے انسان کی توفیق ہے کہ منگی آنکھ سے دیکھ سکے وہ فتویٰ لازماً ساری قوم پر برابر صادق آئے گا اور وہ لوگ جن کا افق ایک ہے وہ سائنسی ذرائع سے معلوم کر کے پہلے سے فیصلہ کر سکتے ہیں۔تو اس لئے وہ جھگڑے کہ اب اکٹھی کیسے عید کی جائے یا اکٹھا رمضان کیسے شروع کیا جائے یہ جھگڑے تو اس دور میں ختم ہو چکے ہیں اور اگر ہیں تو ان لوگوں نے پیدا کئے ہیں جو بے وجہ نا مجھی سے اختلاف کرتے ہیں۔پس یہ جو نظارے یہاں دکھائی دیتے ہیں کہ ایک ہی ملک میں ایک عید آج ہو رہی ہے ایک کل ہو رہی ہے ایک پرسوں ہوگی یہ قرآن کریم کے بیان کا ابہام ہرگز نہیں ہے۔قرآن کریم کا بیان بسنت میں سے ہے، صاف کھلا کھلا ہے۔اگر اس پر چلیں تو ناممکن ہے کہ یہ اختلاف ہوں۔پاننگی آنکھ سے چاند نظر آئے گا یا آلات کے ذریعہ آئے گا اور دونوں ایک دوسرے پر بالکل