خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 47 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 47

خطبات طاہر جلد 15 47 خطبہ جمعہ 19 /جنوری 1996ء ہو جائے گا یا پہلے دور کا عمل جاری رہے گا اور مشینی دور کا عمل متروک سمجھا جائے گا؟ یہ بحث ہے جو بہت سے لوگوں کو الجھن میں مبتلا رکھتی ہے حالانکہ اس میں ایک ادنی ذرہ برابر بھی کوئی الجھن نہیں۔الجھن لوگوں کی نافہمی اور نا کبھی میں ہے ورنہ امر واقعہ یہ ہے کہ نئے دور میں مشینوں کے حوالے سے یا برقیاتی آلوں کے حوالے سے اگر آپ چاند کے طلوع کا علم حاصل کریں تو وہ مَنْ شَهِدَ کے تابع رہتا ہے اور جہاں مَنْ شَهِدَ سے ہلتا ہے وہاں اس کا عمل درآمد نہیں ہوگا ، وہاں بے اعتبار ہو جائے گا۔جو لوگ نہیں سمجھتے وہ ٹھوکر کھاتے ہیں اور پھر آپس میں خوب لڑائیاں ان کی ہوتی ہیں۔اس لئے میں آپ کو سمجھا رہا ہوں آگے عید بھی آئے گی ، یہ بخشیں چلیں گی ، بچوں سے سکول میں بھی گفتگو ہوگی دوسرے بچوں کی کالجوں میں یہ معاملہ زیر بحث آجائے گا، بزنس پر، کاموں پر زیر بحث آئے گا۔اس لئے سب احمدیوں کو اچھی طرح ہر ملک کے احمدی جو یہ خطبہ سن رہے ہیں ان کو اچھی طرح اس بات کو ذہن نشین کر لینا چاہئے۔چاند جو طلوع ہوتا ہے وہ جب زمین کے کنارے سے اوپر آتا ہے تو اگر چہ سائنسی لحاظ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ زمین کے افق سے چاند ذرا سا اوپر آپکا ہے لیکن وہ چاند لازم نہیں کہ نظر سے دیکھا جاسکتا ہو۔اس لئے سائنس دانوں نے بھی ان چیزوں کو تقسیم کر رکھا ہے۔اگر آپ اچھی طرح ان سے جستجو کر کے بات پوچھیں تو وہ آپ کو بالکل صحیح جواب دیں گے کہ دیکھو ہم یہ تو یقینی طور پر معلوم کر سکتے ہیں کہ یہ چاند کس دن کتنے بجے طلوع ہوگا، یعنی سورج غروب ہوتے ہی اوپر ہو چکا ہو گا لیکن اس کا مطلب یہ نہ سمجھو کہ اگر موسم بالکل صاف ہو اور کوئی بھی رستے میں دھند نہ ہو تب بھی تم اس کو اپنی آنکھ سے دیکھ سکتے ہو کیونکہ چاند کو طلوع ہونے کے ہیں منٹ یا کچھ اوپر مزید چاہئے اور ایک خاص زاویئے سے اوپر ہونا چاہئے۔اگر وہاں تک پہنچے تو پھر آنکھ دیکھ سکتی ہے ورنہ نہیں دیکھ سکتی۔اس لئے ہو سکتا ہے جیسا کہ پچھلے سال مولویوں نے یہاں یہ کیا کہ آبزرویٹری Observatory سے یہ تو پوچھ لیا کہ چاند کب نکلے گا اور انہوں نے وہی سائنسی جواب دے دیا کہ فلاں دن یہ اتنے بجے طلوع ہو جائے گا اور سورج ڈوبنے کے معا بعد کا وقت تھا۔تو مولویوں نے فتویٰ دے دیا کہ اس دن شروع ہو جائے گا رمضان یا عید جو بھی تھی اور بعض دوسرے جو ان میں سے سمجھدار تھے تعلیم یافتہ مسلمان یہاں موجود ہیں احمدی نہیں ہیں مگر وہ ان باتوں پر غور کرتے ہیں انہوں نے انکار کر دیا۔انہوں نے کہا ہم تو ایسی