خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 484 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 484

خطبات طاہر جلد 15 484 خطبہ جمعہ 21 / جون 1996ء کسی عورت نے بھی آواز دی تو کھڑے ہو جایا کرتے تھے۔پوری توجہ سے اس کی بات سنتے تھے۔ایک غلام اور بے حیثیت آدمی کبھی آپ کو مدد کے لئے کہتا تھا تو اٹھ کر اس کے ساتھ چل پڑا کرتے تھے۔ایک یتیم بچہ بھی آپ کو بلاتا تھا تو آپ اس کے ساتھ روانہ ہو جایا کرتے تھے۔حیرت انگیز وجود تھا جس کی نہ رفعتیں ہماری پہنچ میں ہیں، نہ اس کی خدا کے حضور پستیاں ہماری پہنچ میں ہیں۔دونوں طرف کے کنارے ہماری عقل کے دائرے سے باہر ہیں لیکن وہ ایسا ہی تھا جس کو خدا نے ساتویں آسمان سے بھی بلند کر دیا۔جب وہ جھکا تو ان لوگوں پر جھک گیا جو پستیوں کی انتہا تک پہنچے ہوئے تھے۔مومنوں پر بھی جھکا اور غیروں پر بھی جھکا لیکن مومنوں کے متعلق تو اس کے دل کی کیفیت ہی اور تھی۔یہ وہ حقیقت ہے جو مصطفوی حقیقت ہے جس میں آنحضرت ﷺ کی تعلیم کی جان ہے۔پس اس پہلو سے ہر امیر کا کام ہے کہ وہ اپنے ماتحتوں سے نرمی اور محبت اور عجز کا سلوک کرے اور ان کی خاطر نہیں بلکہ محض اللہ کی خاطر۔ان کی خاطر تو کرے گا مگر خدا کی خاطر۔اب یہ ایک اور سلسلہ بیچ میں داخل ہو جاتا ہے۔بندوں سے پیار ہے بندوں کی خاطر، مگر بندوں سے بندوں کی خاطر جو پیار ہے اس کا آغاز اللہ کے پیار سے ہوا اور یہ وہ مضمون ہے جسے قرآن کریم کی ایک اور آیت بڑی وضاحت کے ساتھ بیان فرمارہی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ صلى الله عظم قَابَ قَوْسَيْنِ او ادنی (النجم : 9، 10 ) کہ محمد رسول الله و عظیم الشان وجود ہیں دَنا وہ خدا کی طرف بڑھا اور اتنا قریب ہو گیا کہ اس سے زیادہ قرب الہی ممکن نہیں رہا۔اتنے قرب کے باوجود وہ ٹھہر نہیں گیا۔فَتَدَلی پھر وہ نیچے اترا اور بنی نوع انسان کو اس قرب، اس عظیم ذات کے لئے بلانے کے لئے نیچے اترا۔وہ عظمتیں اور رفعتیں جو اس نے اپنے رب سے حاصل کیں اپنے آپ تک محدود نہیں رکھیں بلکہ اس کی خاطر اس کے بندوں میں تقسیم کرنے کے لئے وہ رحمتیں بانٹنے کے لئے نیچے اترا اور اس کی مثال ایسی ہوگئی۔فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ او ادنی جیسے دو قوسیں ہوں یعنی کما نہیں جن کا ایک ہی وتر ہو، ان کے درمیان ایک ہی تنی ہو۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کمانیں کس شکل کی ہو سکتی ہیں؟ عام طور پر اس کی جو شکل بیان کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک طرف کمان نیچے سے آرہی ہے اوپر کی طرف ،ایک اوپر سے کمان اتری ہے اللہ کی محبت کی اور بیچ میں ایک ہی وتر ہے۔وہ تنی ایک ہی ہے۔یہ مضمون بھی بہت باریک اور