خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 469 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 469

خطبات طاہر جلد 15 469 خطبہ جمعہ 14 /جون 1996ء ہمیں پتہ لگ گیا ہے کہ فلاں میں کیا برائی ہے یہی انسانی زندگی میں ایک تباہی مچا دیتی ہے انسانی زندگی کا امن لوٹ لیتی ہے۔مگر نظام جماعت میں تو اگر داخل ہوگی تو اس کے بہت ہی بداثر پیدا ہوں گے اور دیر تک ، دور تک اس کے اثرات جائیں گے۔اس لئے ہم نے اگر نظام جماعت کی حفاظت کرنی ہے تو ان باتوں کا خیال رکھنا ہوگا۔کسی امیر کو زیب نہیں دیتا کہ وہ چند لوگوں کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بن جائیں یا چندلوگوں کے گھیرے میں اس طرح دکھائی دے کہ دوسری باقی جماعتوں پر یہ تاثر ہو کہ یہ ہم سے الگ ہو گیا ہے اور ان کی باتیں سنتا ہے۔ایسی صورت میں پھر میرا تجربہ ہے کہ لوگ پھرا میر کو نہیں ان لوگوں کو باتیں سناتے ہیں اور ان سے تعلقات بڑھاتے ہیں ان کی خدمت میں تحائف پیش کرتے ہیں اپنی جہالت کی وجہ سے کہ اس کو خوش رکھیں گے تو ہماری باتیں ہوگی۔تو تقویٰ کہاں باقی رہا ؟ تقویٰ تو خدا کو خوش کرنے کا نام ہے اور ایسی صورت میں فیصلے سارے ہی غلط ہوتے ہیں اور اس مزاج کے لوگ اگر امیر کو براہ راست خوش کرنے کی کوشش کریں گے وہ بھی تقویٰ سے خالی بات ہوگی کیونکہ ان کو پتا نہیں کہ امیر کا مزاج اور خدا کا مزاج ہم آہنگ ہیں۔اگر ہم آہنگ ہوں تو کوئی خطرہ نہیں لیکن اگر امیر کے مزاج پر ان کی نظر ہے اور وہ صحیح جانتے بھی نہیں کہ امیر کا مزاج ہے کیسا تو اس مزاج کو دیکھ کر فیصلے کرتے ہیں بسا اوقات وہ اللہ کی رضا کے خلاف ہوتے ہیں اور امیر کوخوش کرنے کی خاطر خدا کو ناراض اور بعض دفعہ امیر کو بھی ناراض کرتے ہیں کیونکہ امیر کا مزاج غلط سمجھے ہوتے ہیں۔اپنی ٹیڑھی سوچ کو ایک بچارے امیر کی طرف منسوب کر دیا اور پھر اس سوچ کی خدمت کرتے ہوئے ،اس کی مطابعت کرتے ہوئے غلط کام کر بیٹھے اور جب ناراضگی ہوئی تو پھر ان کے لئے اور مصیبت اور ٹھوکر کا موجب۔تو یہ جو میں عمومی حوالے دے رہا ہوں یہ فرضی باتیں نہیں ہیں بلکہ جو بات بھی میں کہہ رہا ہوں اس کے پیچھے ایک تاریخ ہے۔میرے سامنے لمبے ذاتی تجارب ہیں اور ہر بات کے پیچھے ایک ٹھوس حقیقت ہے۔اس کی تفصیل بیان کرنا ممکن نہیں۔اپنی بات میں نے ذاتی تجربے کے طور پر تو بیان کر دی مگر اب سب کا حال کھولنا اس لئے بھی مناسب نہیں کہ بعض باتیں جب میں بیان کروں گا تو آپ میں سے بعض جماعتوں کے لوگوں کو پتا چل جائے گا کہ یہ فلاں کے متعلق بات ہو رہی ہے، یہ فلاں کے متعلق بات ہو رہی ہے۔پھر اور بھی مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں۔مگر تقویٰ کو فوقیت دیں اور امیر