خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 443 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 443

خطبات طاہر جلد 15 443 خطبہ جمعہ 7 / جون 1996ء پس دیکھئے انبیاء کا آغاز ہی ایک ایسی نیکی سے ہے جس کے ساتھ جتنا تعلق جوڑیں ان کے خلاف جاتی ہے۔سچائی کا اعلان کرتے ہیں۔توحید کامل کا اعلان کرتے ہیں اور یہ نیکی کا اعلان ہی ہمارے لئے ابتلاء کا موجب بن جاتا ہے۔جس نے سچائی کی خاطر ہر مصیبت سہیڑ لی اس کے متعلق کون کہہ سکتا ہے کہ اس کی نیکی عارضی تھی اور وقت بدلنے کے ساتھ بدل سکتی تھی اور یہی انبیاء کی اپنی صداقت کا ایک ثبوت ہے اور خدا کی ہستی کا ثبوت ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ کی ہستی کو ثابت کرنے کے لئے ایک نیک وجود کا ہونا ضروری ہے۔انبیاء کے بغیر کوئی دنیا کی دلیل خدا تعالیٰ کی ہستی کو اس طرح لوگوں کے دلوں میں جانشین نہیں کر سکتی یعنی حقیقت کے طور پر جانشین نہیں کرسکتی کہ جو ان کے اعمال اور اخلاق کی کایا پلٹ دیں۔یہ ایمان جو خدا کی ذات پر پیدا ہوتا ہے اس کے لئے ثبوت ضروری ہے صلى الله اس لئے خدا تعالیٰ نے حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کو وسیلہ قرار دیا ہے اور ہر شخص جو یہ سمجھتا ہے کہ میں خدا کا قائل ہوں اور وسیلے کے بغیر بھی گزارا ہوسکتا ہے ، جھوٹا ہے کیونکہ بچے خدا کا یقین کامل اسی ہستی کے ذریعے ممکن ہے جس کی سچائی کو بار بار زلزلے در پیش آئے ہوں ، ہر قسم کے جھٹکے ملے ہوں اور وہ سچائی یوں لگے جیسے ان کی جان لے کر رہے گی اور وہ جان دینے پر آمادہ رہے مگر سچائی کو ہاتھ سے نہ چھوڑے۔وہ سچائی اگر آسمان سے تعلق رکھتی ہے تو آسمان بھی ایک حقیقت بن کے آپ کو دکھائی دینے لگے گا اگر اخروی دنیا سے تعلق رکھتی ہے تو اخروی دنیا بھی ایک حقیقت بن کے آپ کو دکھائی دینے لگے گی۔انہی معنوں میں شہید کو شہید کہا جاتا ہے۔گواہی وہ جس میں غائب کی خاطر حاضر کو قربان کر دیا جائے۔اس سے بڑی قوی گواہی اور ممکن ہی نہیں ہے۔ورنہ تمام دنیا کا تجربہ یہ ہے اور دنیا کی حکمتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ جو ہاتھ میں آجائے وہی حق ہے اور جو ہاتھ میں نہیں ہے اس کی خاطر خواہ وہ ہزار بھی ہو ہاتھ میں آئے ہوئے ایک کو بھی نہیں چھوڑو کیونکہ جو موجود ہے وہ غیر موجود کے لئے قربان نہیں کیا جاسکتا اور اگر کیا جاتا ہے تو یا تو و شخص سب سے بڑا پاگل ہے یا وہ شخص سب سے زیادہ سچا ہے۔اس نے کچھ ایسی بات دیکھ لی ہے جس کے نتیجہ میں موجود کی کوئی حقیقت نہیں کیونکہ غیر موجود زیادہ یقینی ہے اور ان معنوں میں زیادہ یقینی ہے کہ موجود کے اوپر تو کبھی بھی موت وارد ہوسکتی ہے اور ہونی ضروری ہے لیکن وہ دنیا جو لا محدود ہے وہ غیر فانی ہے۔اس لئے وہ جانتا ہے کہ اس فانی کیفیت کو جو مجھے نصیب ہے اس لافانی کیفیت پر قربان کرنا عقل اور میرے ذاتی منافع کا طبعی تقاضا ہے۔پس جسے۔