خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 418
خطبات طاہر جلد 15 418 خطبہ جمعہ مورخہ 31 مئی 1996ء عدل اللہ کے تصور کے بغیر پیدا ہونا ممکن ہی نہیں ہے۔کوئی دنیا کی طاقت خواہ وہ بڑی ہو یا چھوٹی ہو عدل پر قائم نہیں ہوسکتی اگر خدا کے ہاں اس کی گردن نہ جھکی ہوئی ہو۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے کبھی دنیا میں کسی نے نہ تبدیل کیا نہ آئندہ کوئی تبدیل کر سکتا ہے۔آج کی دنیا کو عدل کے متعلق احساس ہو چلا ہے کہ بہت اہم چیز ہے۔بڑے بڑے سیاستدان بھی بات کرتے ہیں کہ عدل ہونا چاہئے مگر خدا سے تعلق کے بغیر عدل قائم ہو نہیں سکتا۔یہ وہم ہے کیونکہ اللہ کے تعلق میں دو باتیں ہیں اس کی محبت اور اس کا خوف اور محبت اور خوف کے درمیان جو توازن ہے وہ عدل کے قیام کا ذمہ دار ہے اس کے بغیر عدل پیدا ہو نا ممکن نہیں۔یہ جو میں باتیں کہ رہا ہوں بظاہر ایک دعویٰ ہے مگر امر واقعہ یہ ہے کہ بہت گہری سوچ اور بہت تفصیلی جائزوں کے بعد میں قطعی نتیجے پر پہنچا ہوں اور اس کو تفصیل کے ساتھ اگر بیان کیا جائے تو ایک لمبا مضمون ہوگا۔مگر انسانی زندگی کے ہر پہلو پر یہ بات صادق آتی ہے کہ جو پہلو بھی خدا کے خوف سے باہر ہو جائے ، خدا کی محبت سے باہر ہو جائے ، وہ عدل سے خالی ہو جاتا ہے۔اس میں یا ایک طرف جھکاؤ ہو جائے گا یا دوسری طرف جھکاؤ ہو جائے گا۔پس دنیا والے بھی جو عدل کرتے ہیں بعض عدل ان کے میکینکل عدل ہیں۔ان کے اندران کی روح کی گہری لطافت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ان کی روح کی گہری لطافت تب پیدا ہوسکتی ہے اگر خدا سے تعلق ہو۔ورنہ جو ظاہری عدل ہے بعض دفعہ ایک جج بھی جو دنیا دار بلکہ دہر یہ ہے وہ بھی عدل کرتا ہے۔مگر اس کا عدل اور چیز ہے اور خدا کا عدل اور چیز ہے۔اس کے عدل کے اندر ایک بے اختیاری ہے۔وہ مالک نہیں ہے کسی چیز کا اور ملازم ہے ایک ایسے منصب پر جہاں اس کے فرائض میں عدل داخل ہے اس لئے وہ عدل کرتا ہے لیکن وہ شخص جو مالک بھی ہو، جسے اختیار بھی ہو، مواقع بھی میسر آئیں کہ عدل کروں یا نہ کروں وہ اگر عدل کرتا ہے تو وہ اسلامی عدل کے تصور کے نسبتاً زیادہ قریب ہے۔پھر ایسے حج بھی ہیں جو عدالت کی کرسی پر بیٹھتے ہیں عدل کرتے ہیں۔جب گھر آتے ہیں تو بیوی سے عدل نہیں کر سکتے۔اپنے دوستوں سے عدل نہیں کر سکتے۔اپنے ماتحتوں سے عدل نہیں کر سکتے۔اپنے ماتحتوں سے جو گھر کے ملازم ہیں ان سے عدل نہیں کر سکتے اور اپنے ملنے جلنے والوں سے ، اپنے رشتہ داروں سے، اپنے بیوی بچوں تک سے عدل نہیں کر سکتے۔تو عدل کا مضمون کوئی معمولی مضمون نہیں۔یہ ساری زندگی کے ہر پہلو پر چسپاں ہونے والا ایک بار یک مضمون ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ اپنے سے عدل نہیں کر سکتے۔