خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 414
خطبات طاہر جلد 15 414 خطبہ جمعہ مورخہ 31 مئی 1996ء اس آیت میں جو غلام کی مثال دی ہے اس کے مقابل پر ایک ایسے بندے کی جو خدا سے رزق پاتا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ غلام بھی تو خدا کا بندہ تھا جسے کسی نے غلام بنالیا اور اس کا بظاہر تحقیر سے ذکر قرآن کریم میں کیا معنے رکھتا ہے۔وہ قرآن کریم جس کی تعلیم نے آقا اور غلام سب کو برابر صف میں کھڑا کر دیا۔وہ قرآن کریم جس نے حقیقت میں غلامی کو نیست و نابود کرنے کے لئے ایسے ذرائع پیش کئے کہ ان کی کوئی مثال دنیا کے کسی مذہبی یا غیر مذہبی تحریک میں دکھائی نہیں دیتی۔وہ اسلام جس نے حضرت محمد ﷺ کا نمونہ غلاموں کے حق میں ان سے پیار کا پیش کیا اور ایسا نمونہ پیش کیا کہ اس کی مثال تاریخ انبیاء میں دکھائی نہیں دیتی۔وہ اسلام جس کے ابتدائی مومنین میں سے وہ غلام بھی تھا جس کو خلفائے وقت سیدنا بلال کہا کرتے تھے۔اتنی عظمتیں ہیں غلامی کے لئے۔وہ اسلام جو فتح مکہ کے وقت آنحضرت ﷺ کے ذریعے اس شان کے ساتھ ظاہر ہوا کہ بلال کا ایک جھنڈا بھی اس دن گاڑا گیا اور وہ آزاد لوگ جو اس غلام پر ظلم کیا کرتے تھے ان کو جان بچانے کے لئے اسی جھنڈے کی پناہ لینے کا حکم دیا گیا اور یہ اعلان کیا گیا کہ جو بھی اس غلام کے جھنڈے تلے آئے گا اس کی جان بخشی جائے گی ، اس کو کوئی نقصان نہیں ہے۔تو ایک طرف یہ سارے امور ہیں جو غلامی کے متعلق ایک حیرت انگیز اعلیٰ اور نفیس اور پاکیز تعلیم پیش کرتے ہیں اور پھر غلامی کی تعلیم میں جو تفصیل میں خدا تعالیٰ نے بار بار غلام آزاد کر نے کا حکم فرمایا اور پھر اس سے حسن سلوک کا حکم فرمایا اور آنحضرت ﷺ نے جس طرح غلاموں پر ظلم کرنے والوں کی نہایت سختی سے تنبیہ فرمائی۔یہاں تک کہ عبد اللہ بن مسعودؓ کو جب وہ ایک غلام کو مار رہے تھے اس طرح ڈپٹ کر اس سے روکا ہے کہ بلا تاخیر انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ! میں اس کو آزاد کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا ٹھیک ہے۔اگر نہ کرتے تو جہنم تمہاری سزا تھی۔(جامع الترمذي، أبواب البر والصلة ، باب النهي عن الضرب الخدم و شتمهم ) تو ایک طرف غلامی کا یہ عظیم مرتبہ ہے اور دوسری طرف یہ آیت ہے جو کہہ رہی ہے ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوكًا لَّا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ وَمَنْ زَزَقْنَهُ مِنَارِزْقًا حَسَنًا گویا یہ دو الگ الگ چیزیں ہیں اور ہیں ہی الگ الگ چیزیں۔یہاں دراصل دنیا کے مملوک غلام کا