خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 397 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 397

خطبات طاہر جلد 15 397 خطبہ جمعہ مورخہ 24 مئی 1996ء آپ کو کچھ لڑ پیچر دوں۔تو اکثر وہ کہتے ہیں ہاں ہمیں ضرور دیں اور جب میں لٹریچر دیتا ہوں تو وہ بسا اوقات مثبت نتائج ظاہر کرتے ہیں اور صرف اتنی سی میری تبلیغ ہے جس کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کے فضل سے مجھے ایک سال میں تمیں احمدی مل چکے ہیں جو بہت مخلص اور فدائی ہیں اور پوری طرح جماعت کے نظام کا حصہ بن چکے ہیں۔دوسری بات مجھے انہوں نے یہ بتائی کہ دوسرا راز یہ ہے کہ میری بیوی بہت مہمان نواز ہے۔وہ کہتے ہیں بیوی مہمان نواز نہ ہوتی تو مجھے جرات ہی نہ ہوتی کہ اس طرح وقت بے وقت گھروں میں مہمان لے آتا۔کوئی پہلے سے طے شدہ پروگرام تو ہوتا نہیں۔رستہ چلتے کسی سے باتیں شروع ہوئیں تھوڑی سی ہم آہنگی دیکھی اور اس سے پوچھا کہ کیوں جی آپ پسند فرما ئیں گے کہ تھوڑا سا پاکستانی کھانا چکھ لیں۔اکثر تعجب کی وجہ سے یا انوکھی بات سمجھ کر وہ کہتے ہیں ہاں ٹھیک ہے۔کہتے ہیں میں اس یقین کے ساتھ گھر میں آتا ہوں کہ کوئی بھی وقت ہو، کسی قسم کی بھی مشکل ہو میری بیوی ضرور میرا ساتھ دے گی اور ہمیشہ دیتی ہے۔ہنستے ہوئے مسکراتے ہوئے وہ اس طرح ان کو Welcome کرتی ہے کہ اپنے مہمانوں کو ، جو ذاتی مہمان ہوں ان کو بھی شاید اس طرح شوق سے کوئی Welcome نہ کر سکے کیونکہ اس کی زبان پر سبحان اللہ ہوتا ہے۔کہتی ہے اللہ کے مہمان آئے ہیں اور اس وجہ سے خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ غیر معمولی جوش اور ولولے کے ساتھ وہ مہمان نوازیاں کرتی ہے اور کبھی بھی حرف شکایت زبان پر نہیں آیا۔اس نے کہا یہ دو باتیں ہیں جن کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے مجھ پر یہ فضل فرمایا اور میرے جاہل اور لاعلم ہونے کے باوجود مجھے، میری دعوت الی اللہ کو پھل لگائے اور ہمیشہ لگاتا ہے۔اس شخص کی طرز گفتگو سے میں نے یہ اندازہ لگایا اور بالکل واضح تھا یہ کہ اصل میں اس کی سچائی کا اثر ہے۔بات کرنے کا طریقہ بالکل سادہ مگر بالکل سچا اور وہ ایسی بات تھی جو میرے دل پر اثر کر رہی تھی کیسے ممکن تھا کہ یہ بات دوسرے دلوں پر اثر انداز نہ ہو۔پس یا درکھیں اگر آپ نے کامیاب داعی الی اللہ بنا ہے تب بھی آپ کو سچ کی طرف آنا پڑے گا اور سچائی کی راہ میں بہت روکیں حائل ہیں۔جو قو میں بچپن سے اپنے گھروں میں جھوٹ بولتی پل کے جوان ہوئی ہوں، جس کے جھوٹ بولنے کی عادت جس کے ہاں اعزاز سمجھی جاتی ہے۔جتنا بڑا جھوٹا اور لپائی ہو اتنا ہی مجلسوں کا وہ ہیرو بنتا ہو، ایسے