خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 396
خطبات طاہر جلد 15 396 خطبہ جمعہ مورخہ 24 مئی 1996ء ہو۔آپ کے اطوار سچے ہوں۔آپ کی طرز گفتگو سچی ہواور جھوٹ کا تصور تک آپ کے قریب نہ آئے۔یہ وہ مضمون ہے جس کے متعلق پھر کہا جا سکتا ہے کہ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ احمدی وہ لوگ ہیں جو جھوٹ کا منہ تک نہیں دیکھتے۔اگر آپ یہ کریں تو آپ زندہ رہیں گے۔آپ کی بقاء کی قطعی ضمانت دی جاسکتی ہے کیونکہ جو سچا ہو خدائے واحد دیگا نہ اس کی حفاظت فرماتا ہے اور خدا اس کی پشت پناہی فرماتا ہے۔ہر خطرے سے اس کو بچاتا ہے کیونکہ اس نے جھوٹ کا سہارا موجود ہونے کے باوجود جھوٹ کا سہارانہیں لیا۔پس یہ بندہ رحمان خدا کا بندہ بن جاتا ہے اور وہ اس کی حفاظت کرنا خود اپنے ذمہ لے لیتا ہے۔یہ وہ حقیقت ہے جس میں ادنیٰ بھی شک نہیں۔یہ وہ حقیقت ہے جس سے اکثر دنیا منہ پھیرے بیٹھی ہے۔پس آپ نے ایک بہت ہی بڑی ذمہ داری اس قوم میں ادا کرنی ہے اور وہ اسلام اور احمدیت کا نقیب بنتا ہے اور یہ ایک ایسی ہم آہنگی ہے جس کے نتیجے میں آپ دونوں کے درمیان گفت و شنید میں کچھ فاصلے دکھائی نہیں دیں گے۔بچے بچوں سے ملتے ہیں تو ان کے اندر ایک فطری اور طبعی لگاؤ ہوتا ہے جو ان کو ایک دوسرے کے قریب کر دیتا ہے۔اور میں نے یہ دیکھا ہے کہ اکثر داعی الی اللہ وہی کامیاب ہیں جن کے اندر سچائی پائی جاتی ہے کیونکہ وہ سچی بات کرتے ہیں خواہ تھوڑی کریں۔سچی بات کرتے ہیں خواہ زیادہ دلائل نہ بھی جانتے ہوں۔ان کی بات میں وزن پیدا ہو جاتا ہے اور وزن سچائی کا نام ہے چالا کیوں کا نام نہیں۔ایک چھوٹی سی بات بھی جو سچی ہو بعض دفعہ غیر معمولی وزن اختیار کر لیتی ہے۔اس کے مقابل پر ہزار دلائل بھی کام نہیں کرتے اور بے حقیقت ہو جاتے ہیں۔یہاں جو خاص کا میاب داعی الی اللہ ہیں ان میں سے بعض ایسے ہیں جن کو جرمن زبان بھی بہت تھوڑی آتی ہے۔ایسے ہی ایک داعی الی اللہ سے ملاقات کے دوران میں نے پوچھا کہ بتائیں آپ کیا کرتے ہیں۔تو انہوں نے بڑی سادگی سے کہا کہ دو ہی باتیں ہیں جو میں جانتا ہوں۔ایک یہ کہ مجھے کوئی علم نہیں زبان بھی نہیں آتی اور اس کا ایک ہی تو ڑ ہے کہ میں لوگوں کو دعوت دے کر اپنے گھر مہمان بلا لیتا ہوں اور جس حد تک بھی جو کچھ مجھے کہنا آتا ہے سادہ لفظوں میں ان کو کہتا ہوں اور اس مہمان نوازی کے نتیجے میں وہ چند منٹ جو میرے پاس بیٹھتے ہیں میں محسوس کرتا ہوں کہ وہ میرے بہت قریب آرہے ہیں اور وہ مجلس ختم نہیں ہوتی مگر ہم ایک دوسرے کے بہت قریب آچکے ہوتے ہیں۔تب میں ان سے پوچھتا ہوں کہ اگر آپ پسند کریں تو میں