خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 386
خطبات طاہر جلد 15 386 خطبہ جمعہ مورخہ 17 رمئی 1996ء اور کس عالی مرتبہ تک خدا اس محبت کے ذریعے اس کو پہنچا دے گا۔یہ جو صورت حال ہے یہ چند مالی پیسوں کی قربانی کے تعلق میں بیان ہو رہی ہے لیکن آپ دیکھیں اس کا کتنا وسیع مضمون ہے۔زندگی کی ہر نیکی کے ساتھ اس کا تعلق ہے۔ہر انسانی جذبہ پر یہ بات چھائی ہوئی ہے۔اس کے ساتھ ایک صافی تعلق پیدا ہو جاتا ہے ( یہ الفاظ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہیں ) دنیا اور اس کی چیزیں اس کی نظر میں فنا ہو جاتی ہیں اور اہل دنیا کی تعریف یا مذمت کا اسے کوئی خیال ہی پیدا نہیں ہوتا۔یہ نہیں کہ دکھاوے کی خاطر تعریف سے بھی چھپتا پھرتا ہے اس کی بلاء سے ہورہی ہے یا نہیں ہورہی۔ہوتی ہے تو معنی کوئی نہیں۔بسا اوقات ایسا انسان کو تجربہ ہوتا ہے کوئی شخص جس نے کسی کے ساتھ نیکی کی ہو بعض دفعہ وہ اس کی تعریف میں خط لکھتا ہے تو جس نے واقعہ اللہ کے لئے کی ہوتی ہے اس کو پرواہ کوئی نہیں ہوتی۔یہ الفاظ اس کے دل میں کوئی کسی قسم کی بھی تحریک نہیں پیدا کرتے جو تعریف کو کرنی چاہئے کیونکہ وہ اپنی تعریف خدا سے وصول کر چکا ہوتا ہے۔اس لئے دوسری دفعہ وہ وہی سودا کسی اور کو نہیں بیچتا۔تو اس طرح انسان اپنی نیکیوں پر نظر رکھ سکتا ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بار یک بار یک مقامات پر نظر رکھتے ہوئے آپ کی رہنمائی فرمائی ہے۔غرض بدیوں کے ترک پر اس قدر ناز نہ کرو ( اب ایک اور مضمون شروع ہو گیا ) غرض بدیوں کے ترک پر اس قدر ناز نہ کرو۔جب تک نیکیوں کو پورے طور پر ادا نہ کرو گے اور نیکیاں بھی ایسی نیکیاں جن میں ریاء کی ملونی نہ ہو اس وقت تک سلوک کی منزل طے نہیں ہوتی۔“ یعنی بعض ترک شریر ہی نازاں ہوتے ہیں ہم نے فلاں بدی چھوڑ دی ہم نے فلاں بدی چھوڑ دی۔فرمایا بدی چھوڑ نا تو کوئی حقیقت نہیں ہے۔کس نیکی نے اس بدی کی جگہ لی ہے؟ یہ ہے اصل مضمون۔اگر آپ صفائی کر کے بیٹھ جائیں اور کچھ بھی وہاں نہ لگائیں وہ خلاء کی خلاء ہی رہے تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔صفائی اس لئے کی جاتی ہے کہ گندگی پھینکی جائے اور اچھی چیز اس کی جگہ رکھی جائے یا اچھوں کو وہاں آنے کی دعوت دی جائے۔اگر خالی صفائی ہی ہے، نہ اچھا سامان ، نہ اچھے آنے والے لوگ تو اس صفائی کا کیا فائدہ۔فرمایا نیکیوں سے اپنے دلوں کو بھرنا یہ وسعت بناؤ اگر نیکیوں سے دلوں