خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 367
خطبات طاہر جلد 15 367 خطبہ جمعہ مورخہ 10 مئی 1996ء والے امیدواروں سے پیسے لیتے ہیں یہ تو چند دن کی بات ہوتی ہے۔پھر عرصہ انتخاب پانچ سال ہے تو پانچ سال ان لوگوں کو منتخب کو پیسے دینے پڑتے ہیں اور کئی کئی گنا واپس کرنے پڑتے ہیں۔ہر روز کوئی نہ کوئی کام کسی بے چارے کو نکل آتا ہے، کبھی پٹواری سے نکل آیا، کبھی تھانے دار سے نکل آیا، کبھی افسر مال سے نکل آیا، کبھی ڈپٹی کمشنر سے اور اس منتخب امیدوار کے گھر کے دروازے کھٹکتے ہیں اور ہر خدمت کی قیمت ہوتی ہے اور قیمت کے بغیر خدمت لی ہی نہیں جاسکتی۔تو جہاں اقتدار کو دولت کا ذریعہ بنا لیا جائے ، جہاں اقتدار و ظلم کا ذریعہ بنالیا جائے ایسے ملک میں امن کیسے ہوسکتا ہے اور اسلام وہاں کیسے گھس سکتا ہے۔اسلام تو ایسے ملک میں جھانکتا تک نہیں اور نام اسلام کالے رہے ہیں۔اگر یہ فصیحتیں نہیں سنی ، اگر ان پر عمل نہیں کرنا جو میں تمہیں دکھا رہا ہوں، تم جانتے ہو کہ بیچ ہے، ایک ایک لفظ سچ ہے۔اگر یہ دیکھنے کے باوجود اپنے اخلاق میں اور اپنے اعمال میں تبدیلی نہیں کرنی تو خدا کے واسطے خدا کا نام لینا تو چھوڑ دو۔جھک مارنی ہے تو کسی اور نام پر مارو، اسلام کے نام پر نہ مارو۔محمد رسول اللہ ﷺ کے نام پر ظلم نہ کرو۔یہ سب سے بڑا ظلم ہے جو میں نے کہا تھا کہ رسول پر بھی کر رہے ہیں اور خدا پر بھی کر رہے ہیں اور اس کی سزا ضرور ملے گی۔کس طرح ملے گی اللہ بہتر جانتا ہے۔کچھ تو مل رہی ہے وہی اتنی زیادہ ہے کہ جو جاتے ہیں وہ پر پھڑ پھڑاتے ہوئے پاکستان سے نکلتے ہیں۔کہتے ہیں ہم نے جو دیکھا تھا کچھ اور تھا یہ تو کچھ اور ہی بن چکا ہے۔نہایت ہی بھیا نک نقشے لے کر آتے ہیں جو ہمیں بتاتے ہیں اور تعجب ہوتا ہے کہ یہ قوم پھر کس طرح زندہ ہے۔غربت کا حال یہ ہے کہ دن بدن دولت جو ہے چند نہیں بلکہ چند سویا چند ہزار خاندانوں میں اکٹھی ہو رہی ہے اور جو سڑکوں پر پلنے والا غریب ہے اس کا کوئی حال نہیں۔کوئی پرسان حال نہیں۔قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور غریب کو تو قیمتوں کے خلاف احتجاج کرنے کی بھی طاقت نہیں ہے۔اگر طاقت ہے تو ان کو جن کے پاس اپنی غربت کو دور کرنے کے لئے دوسرے ذرائع بڑی کثرت سے موجود ہیں۔یہ عجیب واقعہ ہوا ہے ابھی کہ پاکستان کے کلرکوں نے احتجاج کیا اور سڑکوں پر نکل آئے اور بھوک کے خلاف احتجاج تھا اس لئے قمیضیں اتار کر باہر نکلے اور آپ حیران ہوں گے دیکھ کر اتنے موٹے موٹے پیٹ ہیں ان تصویروں میں کہ آدمی دنگ رہ جاتا ہے۔بھوک کے خلاف ایسا احتجاج کبھی انسانی تاریخ میں نہیں کیا گیا ہوگا۔بڑے بڑے موٹے پیٹ والے کلرک سڑکوں پر نکلے ہوئے