خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 350 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 350

خطبات طاہر جلد 15 350 خطبہ جمعہ مورخہ 3 مئی 1996ء وہاں سے کہ ہم برداشت نہیں کر سکتے۔اگر تم نے یہ کرنا ہے تو ہمارا آنا جانا تمہارے گھر میں منقطع ہو جائے گا۔جو بھی ذریعے اختیار کریں نیچے سے اوپر کی طرف سفر کریں یعنی رجس سے پاک کریں۔آخری مقام یعنی جھوٹ کے قلع قمع کرنے کے ذریعے سے سفر اختیار کریں اور معاشرے سے جھوٹ کی بیخ کنی کے پروگرام بنا ئیں۔کسی بچے کا جھوٹ برداشت نہ کریں چاہے وہ مذاق میں ہو۔یہ وہ ایک صورت ہے جس کے نتیجے میں یہ جو بہت بڑی اور بھیا نک جنگ ہمارے سامنے ہے، معاشرتی خباثتوں سے اپنے خاندانوں کو اگلی نسلوں کو پاک اور محفوظ رکھنا ، یہ نصیب ہوگی تو پھر خدا تعالیٰ کے فضل سے MTA کا فیض بھی عام ہونا شروع ہو جائے گا اور جب ذوق درست ہوں گے تو پھر اس مضمون میں بھی لوگوں کو دلچسپی ہوگی جو MTA کا مضمون ہے یعنی اللہ اور اس کے رسول کی باتیں اور معلومات جو حق پر مبنی ہیں اور مصنوعی نہیں ہیں، جو سرتا پانچ ہیں۔ایسا ایک نظام ٹیلی ویژن کا جس میں ادا کاری کا کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہے یہاں تک کہ جب ایک عرب عورت نے ایک خبر پڑھنے والے کو اس طرح دیکھا کہ اس نے ایک پاؤں موٹر کے او پر رکھا ہوا تھا ایک باہر تھا تو مجھے احتجاج کا خط لکھا۔ابھی وہ احمدی نہیں ہوئی تھیں اب خدا کے فضل سے مخلص احمدی بن چکی ہیں۔اس نے کہا مجھے تو آپ کے پروگرام سے محبت اس لئے تھی کہ محض سچ ہے اس میں کوئی بھی ادا کاری نہیں۔جب آپ کھانا کھا رہے ہوتے ہیں جب بیٹھے ہوئے بچوں کے چہرے مہرے اور زبان پر ہو جو آپ کے ارد گرد بیٹھے ہوتے ہیں۔کہتی ہیں میں تو Fascinate ہو جاتی ہوں ان باتوں سے، کہ شکر ہے خدا کا کہ ایک ٹیلی ویژن تو ایسا ہے جو سچ پر مبنی ہے۔کہتی ہیں جب میں نے اس خبریں پڑھنے والے کودیکھا جو مصنوعی ادا کاروں کی نقل کر رہا ہے اور اپنی طرف سے خبروں کا معیار بڑھا رہا ہے تو اسی وقت میرا دل بے قرار ہو گیا، میں نے کہا ابھی آپ کو بھتی ہوں کہ خبروں کا معیار بڑھا نہیں رہا، گرا رہا ہے۔آپ کی خبروں کا معیار تو سچائی سے اونچا ہوتا ہے۔آپ کے ٹیلی ویژن کا تو لطف ہی یہ ہے کہ اس میں کوئی اداکاری کا دخل نہیں۔پس جوں جوں آپ سچ کی خدمت کریں گے، سچ کا ذوق بڑھائیں گے MTA کو اللہ تعالیٰ نئی وسعتیں عطا فرمائے گا، نئے افق عطا فرمائے گا اور جوں جوں MTA کے ساتھ لوگوں کا تعلق بڑھے گا انشاء اللہ تعالیٰ وہ اسلام کی قدروں کے دائرے میں آجائیں گے اور پھر ان کو باہر نکلنے کا وہم بھی پیدا نہیں ہوگا کیونکہ یہ وہ دائرہ