خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 349
خطبات طاہر جلد 15 349 خطبہ جمعہ مورخہ 3 مئی 1996ء نہیں ہے۔صلاحیت اس لئے نہیں کہ وہ تھوڑے لوگ ہیں اور ہر انسان کی پہنچ سے بہت دور ہیں اور اگر دس بارہ کی پہنچ میں ہوں تو ان کے لئے ناممکن ہے کہ دس بارہ کی تسکیں بھی پوری کر سکیں، اپنی نہیں ہوتی ان کی۔خود کشیاں کر لیتے ہیں اپنی عمروں کے بعد کیونکہ جتنے پرستار ہیں وہ بھی جھوٹے نکلتے ہیں۔اور ان کے جو Confessions ہیں وہ آپ پڑھیں جو انگلستان اور یورپ کے ایکٹرز سے تعلق رکھنے والے ہیں مستند مل جاتے ہیں۔بڑی بڑی ایسی معبودا ئیں، جو جھوٹی معبودا ئیں تھیں، ان کا انجام یہ ہوا کہ خود کشی کر کے مرگئیں۔بڑے بڑے ایکٹر خود کشی کر کے مر گئے کہ تم ہمیں دور سے دیکھ کر پرستش کر رہے تھے اندر دیکھو تو سہی کہ آگ کے سوا ہے ہی کچھ نہیں۔پس ان بتوں کی پرستش کر کے تمہیں ملے گا گیا۔ساری رات عبادت کرو گے، سارا دن ان کی بدمزگی میں مبتلا رہو گے، دل میں امنگیں بھڑک اٹھیں گی اس کو بھی حاصل کر لو اس کو بھی حاصل کر لو۔نہ یہ حاصل ہوگا نہ وہ حاصل ہوگا۔صرف تصویروں کی پرستش کر سکتے ہو، اس کو سینے سے لگا سکتے ہو، اس کو چمٹ سکتے ہو،اسے پیار کر سکتے ہو،اسے خوب صورت فریموں میں جکڑ سکتے ہو، اس سے زیادہ تمہارے کچھ ہاتھ نہیں آسکتا۔مگر کیا تصویر بھی کبھی دل بہلا سکتی ہے۔متحرک تصویر بھی نہیں بہلاسکتی ، کھڑی تصویر بھی نہیں بہلا سکتی۔ہاں تصویر سے وابستہ مضامین بعض دفعہ تسکین بخشتے ہیں۔مگر ان تصویروں سے وابستہ تو کوئی مضمون بھی ایسا نہیں جو دل کی تسکین کا موجب بن سکے۔صرف آگ بھڑ کانے والے مضامین ہیں اور ہر شخص جانتا ہے، جس کو یہ تجربہ ہوگا وہ جانتا ہوگا کہ میں جھوٹ کی پرستش کر رہا ہوں۔ایک بھر کی لگی رہتی ہے جو بجھتی نہیں سمجھ نہیں آتی کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔جتنا آگے بڑھتے ہیں پیاس بڑھتی چلی جاتی ہے۔یہ سمندر کے پانی پی کر پیاس بجھانے والے جاہل سوائے اس کے کہ ہلاکتوں کی طرف بڑھ رہے ہوں اور ان کا کوئی مقصد نہیں ہے۔تو معاشرے کونگر ان ہو جانا چاہئے۔احمدی نظام کو ہر جگہ مستعد ہو جانا چاہئے۔جہاں جہاں یہ بیماریاں داخل ہو رہی ہیں ان کا دائرہ کر لیں کیونکہ وہ فحشاء کی بیماریاں ہیں جو پھیلنے والی ہیں۔ایسی بیماریاں ہیں جو آگے لگیں گی اور پھر سارے معاشرے کو بے کار کر دیں گی۔اس لئے ان کے گرد گھیرے ڈال لیں تا کہ ان کا گند آگے دوسرے پاک گھروں میں منتقل ہی نہ ہو سکے۔بائیکاٹ اس طرح نہ سہی مگر جو جانے والے ہیں ان کو سمجھا ئیں تو سہی۔جب بھی وہ ایسا گند دیکھیں اٹھ کر آجائیں