خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 345
خطبات طاہر جلد 15 345 خطبہ جمعہ مورخہ 3 مئی 1996ء پھر تمہارے پاس نہیں رہے گی۔پس ایک ہی ذریعہ ہے کہ ایم۔ٹی۔اے کی طرف ان کو واپس لایا جائے اور اب اللہ کا فضل ایسا ہے کہ اس کا رخ اتنا بدل گیا ہے ان گندے پروگراموں سے کہ ان کے لئے ممکن ہی نہیں ہے کہ ہر روز بار بار اس کا رخ تبدیل کریں۔پس یہ اللہ کا احسان ہے اور جوں جوں وقت گزرے گا انشاء اللہ ہمارے پروگرام اور بہتر بھی ہوں گے اور اور متنوع بھی ہوتے چلے جائیں گے۔ابھی ابتدائی دقتیں بہت زیادہ ہیں۔بڑی بڑی مشینیں ہیں جن کا سمجھنا ہی بہت پر پیچ کام ہے اور اس کے لئے والٹیئر ز (Volunteers) کا دن رات اس پر نگران رہنا اور بر وقت صحیح کل کو دبانا اور غلط کل کو روک دینا، یہ بھی حیرت ہوتی ہے دیکھ کر ان نو جوانوں کو جب میں سٹوڈیو میں دیکھتا ہوں کہ کس طرح ان کی انگلیاں ٹھیک چلی جاتی ہیں تو لگتا ہے ایک بڑا جھنجھٹ ہے جیسے کوئی پائلٹ بہت ہی جدید قسم کا ہوائی جہاز اڑا رہا ہو پائلٹ اس کو جس طرح بڑے وسیع علم کی ضرورت ہے ورنہ اس کا ہاتھ صحیح Knob کی طرف جاہی نہیں سکتا۔اسی طرح یہ نظام بھی بہت پیچیدہ نظام ہے۔اس کا توازن قائم رکھنا اس کی اور بہت سی ایسی ضروریات ہیں جن کو گنا نہیں جا سکتا عام مجلس میں، کیونکہ وہ ٹیکنیکل تفاصیل ہیں کہ ان کو سمجھے بغیر ، ان پر عبور حاصل کئے بغیر ہم اس نظام کو پوری طرح بر محل استعمال نہیں کر سکتے۔مگر انشاء اللہ تعالیٰ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے جوں جوں وقت آگے بڑھے گا ہمارے والنٹیئر ز (Volunteers) اور تیار ہوتے چلے جائیں گے اور خدا کے فضل سے عارضی روکیں جو تھیں وہ دور ہو جائیں گی۔اب آخری پہلو آخری امر جس کی طرف میں متوجہ کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ دلچسپی کا انسانی فطرت سے ایک گہرا رابطہ ہے کہ محض یہ کہ کر کہ گندگی سے بچو آپ ان کے رخ پاکیزگی کی طرف پھیر نہیں سکتے۔تحویل قبلہ کے وقت جو رخ بدلے ہیں وہ اللہ اور رسول کی محبت کی وجہ سے بدلے ہیں ورنہ پرانی رسموں کو انسان اچانک چھوڑ نہیں سکتا۔وہ محبت اتنی قوی تھی کہ جیسے طاقتور مقناطیس کم طاقتور مقناطیس سے اس سوئی کا منہ چھین لیتا ہے جو کسی کم طاقت ور مقناطیس کی طرف مڑی ہوئی ہو۔اس بیماری کا خلاصہ یہ ہے کہ بعض لوگوں کے دلوں میں دنیا کی گندگی کا مقناطیس زیادہ طاقتور ہے اور وہ لوگ جو پاک ہیں ان کے دل میں تو ہمیشہ ہی ایک مقناطیس ہے دوسرا ہے ہی کوئی نہیں۔ان کا قبلہ تو ہمیشہ درست رہے گا۔جو بیچ کے لوگ ہیں ان کے لئے ہمارا بھی فرض ہے کہ اپنے مقناطیس کی طاقت کو