خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 344
خطبات طاہر جلد 15 344 خطبہ جمعہ مورخہ 3 مئی 1996ء ہے، بنگلہ دیش بھی شامل ہے اور دیگر مشرقی ممالک شامل ہیں جن سب پر یہ ہندوستان سے پیدا ہونے والی ٹیلی ویژن کی گندگی کا اثر پڑ چکا ہے اور بڑھتا جارہا ہے، اتنا بڑھتا جا رہا ہے کہ ملائشیا میں جن کو اردو نہیں بھی آتی وہ بھی یہ گندی فلمیں دیکھتے ہیں ، انڈونیشیا میں جن کو اردو نہیں بھی آتی وہ بھی یہ گندی فلمیں دیکھتے ہیں، وہاں ان کو سنبھالنے کے لئے کر کیا سکتے تھے۔کیسے ممکن تھا کہ ہم گھروں میں داخل ہو کر ان کے بچوں ، ان کی بچیوں پر اثر انداز ہوتے اور ان کو اس غلاظت سے بچانے کی کوئی کوشش کر سکتے۔اوّل تو ایسے لوگ پھر نمازوں سے بھی تعلق توڑ بیٹھے ہیں۔کبھی جمعہ پر جو را بطے ان کے ہو جایا کرتے تھے اس کی بھی توفیق نہیں ملتی اور رفتہ رفتہ دین سے سرک کر اتنی دور چلے جاتے ہیں کہ پھر ان تک آواز پہنچنا ہی ممکن نہیں رہتا۔کیسے ان تک آواز پہنچائیں کہ واپس آ جاؤ۔پسMTA ایک بہت ہی بڑا احسان ہے، اتنا بڑا احسان ہے کہ ناممکن ہے کہ ہم اس کا شکر ادا کر سکیں اللہ تعالیٰ کے حضور۔سارے عالم میں جو جماعت نے ہم پر تربیت کی ذمہ داری ڈالی اور وہ بڑھ رہی ہے، تبلیغ کے تقاضوں کے بڑھنے کے ساتھ یہ ضرورت اور زیادہ بڑھتی چلی جا رہی ہے ہم کیسے ادا کر سکتے تھے۔ناممکن تھا اور لاکھوں بنا کر ان کو پھر اندھیروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا یہ کون سی حکمت کی بات تھی۔اب اللہ کے فضل سے جماعت احمدیہ میں یہ استطاعت ہے کہ یہ نظام مسلسل چوبیس (24) گھنٹے تمام دنیا ئے احمدیت میں ہر جگہ اللہ اور اس کے رسول کی باتیں پہنچائے گا اور دنیا میں کوئی جگہ بھی ایسی نہیں ہے جو اس نور سے خالی ہو۔پس جس قدر بھی خدا کا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔پاکستان کی جماعتوں کو خصوصیت سے متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ جائزے لیں کہ کہاں کہاں یہ گندگی ہے اور ان کو سمجھا کر منتیں کر کے ان کو بچانے کی کوشش کریں۔بعض معین گھروں کے متعلق مجھے علم ہوا ہے کہ رات دو تین بجے تک جا گنا ان کا دستور بن چکا ہے کیونکہ وہ ایک فلم کے بعد دوسری گندی فلم نہ دیکھنے کی زحمت برداشت ہی نہیں کر سکتے۔اس گند کے بعد گلا کیا گند ہے،اس کے بعد پھر اور کیا گند آئے گا، یہاں تک کہ بدن ٹوٹ جاتا ہے تو اس وقت ان کو نیند آتی ہے جب کہ خدا کے بندوں کے جاگنے کا وقت ہوتا ہے۔تہجد کا سوال ہی کوئی نہیں، صبح کی نماز بھی ضائع جاتی ہے اور ایسے لوگوں کو رفتہ رفتہ ذوق عبادت رہتا ہی کوئی نہیں کیونکہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جہاں رجس ہو جائے وہاں پھر ضرور بت قبضہ کیا کرتے ہیں۔ناممکن ہے کہ تو حید وہاں بیٹھی رہے۔جس کی تم بے حرمتی کرو گے وہ