خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 269 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 269

خطبات طاہر جلد 15 269 خطبہ جمعہ 5 اپریل 1996ء تو خدا کے کلام کی شان دیکھیں کس طرح ان تینوں کو آپس میں اکٹھا کر کے ایک واحد مضمون پیدا فرمایا ہے۔فرمایا ہے روشنی کے یہ تین رستے ہیں ان کے بغیر مکمل نہیں ہوتی روشنی۔ان میں سے ایک بھی نہ ہو تو کمی آ جائے گی۔مگر کوئی بھی نہ ہو تو پھر تمہارا کیا بس ہے کہ تم اسے ٹھیک کر لو۔اسی کو موت کہتے ہیں۔جب مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ صدیوں کے گڑے ہوئے مردے زندہ کر دیئے تو یہ موت کی علامتیں پیدا ہو چکی تھیں اس عرب میں جس میں آنحضرت ﷺ کا نور ظاہر ہوا ہے۔اندھیروں میں آپ نے قدم رکھا ہے اور اندھیروں کو روشنیوں میں تبدیل فرمایا ہے۔وہ ذاتی کوشش سے علم کی کوشش سے، تقریر کی کوشش سے تحریر کی کوشش سے ممکن نہیں تھا۔فرمایا ایک فانی فی الله کی راتوں کی دعائیں ہی تو تھیں۔پس وہ لوگ جو اس مضمون کی انتہائی ظلمت کے کنارے تک جا پہنچے ہیں ان کو بھی ہم نے بلانا ہے خواہ وہ ہمارے علاوہ ہوں یا ہمارے اندر کے بسنے والے لوگ ہوں ، ہمارے گھر کے بچے ہی کیوں نہ ہوں۔اگر یہ حالت پہنچ گئی ہے سنتے بھی نہیں ہیں اور سوچتے بھی نہیں ہیں اور دیکھنے سے ویسے ہی عاری ہو چکے ہیں تو آپ کیسے ان کو ہدایت دیں گے۔میرے سامنے مسئلے لاتے ہیں، میں کہتا ہوں یہ وقت گزر چکا ہے اب تمہیں جلدی ہوش چاہئے تھی۔اس وقت بیمار کو لے کے آئے ہو جب آنکھیں کھلی ہیں مگر دکھائی نہیں دے رہا، کان موجود ہیں مگر سنائی نہیں دے رہا، قوت فکر سے خالی ہو گیا، موت اور کہتے کس کو ہیں پھر ؟ تو موت کا تو کوئی علاج نہیں۔مردہ کو کوئی زندہ نہیں کر سکتا مگر اللہ اور ظاہری مردے تو وہ اس دنیا میں زندہ نہیں کرتا مگر روحانی مردوں کو ضرور زندہ کرتا ہے ورنہ قرآن کریم کے یہ مضامین اور بار ہا اس کے تذکرے بالکل بے معنی اور لغو ہو جائیں گے اور ہو نہیں سکتا کہ قرآن کریم کسی مضمون کو محض لغو قصوں کے طور پر بیان فرمائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ابراہیم نے بھی تو سوال کیا تھا۔رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتُى (البقرہ:261)اے میرے خدا! بتا مردوں کو تو کیسے زندہ کرے گا یہ مردے کیسے زندہ ہوں گے؟ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ایک طریق سکھایا جس کے متعلق میں پہلے اس سے ایک خطبے میں روشنی ڈال چکا ہوں۔اب وہ ظاہری مردے مراد نہیں تھے روحانی مردے تھے اور وہ مردے ایسے ہیں جو ایک صاحب فہم ، صاحب عقل انسان دیکھ کر یہی فیصلہ کرتا ہے کہ یہ ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔