خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 215 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 215

خطبات طاہر جلد 15 215 خطبہ جمعہ 15 / مارچ 1996ء مضمون ہے جس کا اندھیروں سے تعلق ہے اب ان کی نشاندہی کر کے آپ کو دکھانا ہے کہ یہ اندھیرے ہیں جب تک یہ رہیں گے نور داخل نہیں ہو گا اور ہر اندھیرے سے تعلق رکھنے والا ایک متقابل نور ہے وہ بدبخت اندھیرا دل سے نکالیں گے تو پھر نور وہاں قدم رکھے گا اور پھر جب قدم رکھے گا حقیقت میں اور وہ اندھیرا نہیں رہا ہوگا تو پھر وہ نور نہیں مٹ سکتا۔میں نے آپ سے یہ بھی بات کی تھی کہ جب نور طاقتور ہے تو اس کے آنے کے بعد اندھیرے واپس کیوں آتے ہیں وجہ یہ ہے کہ بسا اوقات انسان کا ابھی اندھیر انہیں مٹا ہوتا تو اللہ اپنی رحمت سے کچھ نور کا حصہ مزے کے طور پر دے دیتا ہے۔نفس کا اندھیرا باقی رہتا ہے ابھی ، پھر انسان اس کی پرورش شروع کر دیتا ہے اور نور کی ناقدری کرتا ہے تو نور از خود نکلتا ہے اندھیرے سے ہٹتا نہیں ہے۔وہ شخص جس کا ظرف اندھیرے رکھتا ہے وہ شخص ہار جاتا ہے۔نور کو تو وہ خود پھر کہتا ہے کہ بھئی میرا پیچھا چھوڑ واب اور نور ز بر دستی نہیں ملتا۔نور تو عطا ہے۔اگر کوئی شخص مستحق ہے اور قدر دان ہے تو اس کے پاس رہے گا ورنہ نہیں۔اندھیرے کو فی ذاتہ نور کے اوپر غالب آنے کی توفیق نہیں ہے ہاں وہ مالک جس نے کچھ اندھیرے سے حصہ پایا ہے، کچھ روشنی سے حصہ پایا ہے اس کا اپنار جحان ،اس کا اپنا طرز عمل ہے جو یہ فیصلہ کرے گا کہ بالآخر نور باقی رہے گا یا ظلمت باقی رہ جائے گی۔مگر یہ بھی ایک نسبتاً زیادہ تفصیل کا محتاج مضمون ہے۔اب میں اس خطبے کو ختم کرتا ہوں اور ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے اندھیروں سے ہمیں پاک وصاف کر دے اور ہر اندھیرے کے بدلے وہ نور عطا فرمائے جو آکر ٹھہر جانے والا ، بس جانے والا ہو اور پھر ہمیں کبھی نہ چھوڑے۔آمین