خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 16 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 16

خطبات طاہر جلد 15 16 خطبہ جمعہ 5 جنوری 1996ء دنیا کی سب سے اونچی قوموں میں سے ہے۔جو یونائیٹڈ نیشنز کی طرف سے چارٹ چھپتے ہیں ان کا طریقہ یہ ہے ، وہ کہتے ہیں فرض کروسوئٹزرلینڈ سو ہے تو امریکہ کتنا ہے، انگلستان کتنا ہے یا وہ شہروں کے مواز نے کر کے بتاتے ہیں کہ اگر زیورچ اتنا ہے تو لندن کتنا ہے اور کوپن ہیگن کتنا ہے وغیرہ وغیرہ تو اس پہلو سے جو میں موازنہ بتا رہا ہوں سوئٹزر لینڈ کو خدا کے فضل سے تمام دنیا میں اقتصادی برتری اگر سب ملکوں پر نہیں تو اکثر ممالک پر حاصل ہے اس لئے ان کا آگے آنا خوشی کی بات تو ہے مگر اتنی تعجب کی بات نہیں۔انڈو نیشیا بھی مالی قربانیوں میں ترقی کر رہاہے اس کا نمبر آٹھواں ہے۔بیلجیئم کا نواں نمبر ہے اور جاپان کا دسواں نمبر ہے۔بعض دوسرے چندوں میں جاپان آگے نکل جاتا ہے۔یہ ہوتا رہتا ہے کبھی اس دوڑ میں کوئی کبھی دوسری دوڑ میں کوئی اور تو اس پہ کچھ پژمردہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔کوشش کرتے رہیں خدا جب جس کو توفیق دے اسی کو کامیابی نصیب ہوگی۔فی کس مالی قربانی کے لحاظ سے سوئٹزر لینڈ نمبر ایک ہے اگر سوئٹزر لینڈ کے یونائیٹڈ نیشنز کے چارٹ کی طرح سو نمبر مقرر کیے جائیں تو دوسرے نمبر پر امریکہ آتا ہے اس کے بہتر نمبر بنیں گے تیسرے نمبر پر تھیم آتا ہے جس کے اکسٹھ نمبر بنیں گے، چوتھے نمبر پر کوریا ہے جس کے انتیس نمبر اور جاپان کو پانچویں نمبر پر یہاں رکھا ہوا ہے لیکن دنیا میں وہ سوئٹزر لینڈ کے بعد نمبر دو ہے Per Capita Income کے لحاظ سے سوئٹزرلینڈ کے اگر سو نمبر ہیں تو جاپان کے چھیاسی نمبر یونائیٹڈ نیشنز نے مقرر کئے ہیں یہاں Per Capita Income سے مراد تجارتی انکم مراد نہیں ہے بلکہ Wages یعنی ایک آدمی جب نوکری کرتا ہے تو اس کو جو تنخواہ ملتی ہے اس کے اعداد و شمار سے یونائیٹڈ نیشنز نے یہ موازنہ شائع کیا ہے۔سوئیٹر ر لینڈ میں سب ملازموں کی اگر اوسط نکالی جائے تو ملازم پیشہ کو اگر سو پاؤنڈ ملتے ہیں تو جاپان کے ملازم کو پیشہ کو چھیاسی ملتے ہیں۔پس اس پہلو سے سوئٹزرلینڈ کی جماعت کا نمبر ایک ہونا نسبت کے لحاظ سے یہ ایک بڑا مبارک قدم ہے اور انہوں نے دنیا کی اقتصادی توقعات کے مطابق جماعتی مالی قربانیوں میں بھی ویسا ہی نمونہ دکھایا ہے۔اللہ تعالیٰ مبارک فرمائے۔پاکستان کے موازنے میں صرف اتنا بتا نا کافی ہے لمبی فہرستیں پڑھنے کا وقت تو نہیں ہے کہ الحمد للہ ربوہ کوگزشتہ سالوں میں ہمیشہ اول آنے کی توفیق ملتی رہی ہے اس دفعہ بھی اول آیا ہے اور نمبر دو جہاں تک بالغان کی قربانی کا تعلق ہے دفتر