خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 209 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 209

خطبات طاہر جلد 15 209 خطبہ جمعہ 15 / مارچ 1996ء فرما دیا ہے۔اس جائز طریق کی حدود میں رہ کر وہ باتیں جو دوسری طرح لہو دکھائی دیں گی وہاں لہو نہیں رہتیں۔میاں بیوی کے تعلقات ہیں، دوسرے اور ایسے سیر گاہوں پہ جانا ہے،تفریحات سے استفادہ کرنا ہے،کھیلنا ہے، یہ سب چیزیں وہی ہیں جن کا انسانی فطرت کے طبعی تقاضوں سے تعلق ہے اور خدا تعالیٰ نے ہر جگہ ان کی محدود اجازت دے کر یہ نہیں فرمایا کہ تمہیں ہم نے یہ طاقت بخشی تو ہے مگر اس طاقت سے فائدہ نہیں اٹھانا، فرمایا طاقت تو بخشی ہے مگر اس حد تک فائدہ اٹھانا ہے اس سے آگے نہیں جانا۔یہ بات لوگ بھول جاتے ہیں کہ جس حد تک خدا نے فائدے کی اجازت فرمائی ہے لذت و ہیں ختم ہو جاتی ہے، پوری لذت زیادہ سے زیادہ وہیں تسکین پاتی ہے اس سے آگے بڑھیں تو پھر وہی لذت اور وہی تسکین تکلیف کا سامان بن جاتی ہے۔مثلاً کھانے کے متعلق فرمایا كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا (الاعراف:32) کھاؤ پیونگر اسراف نہ کرنا۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کھانا کھانے کا صحیح طریق یہ ہے کہ ابھی بھوک ہو تو ہاتھ کھینچ لو۔اب لذت ایسے شخص کو بھی ملتی ہے مگر ایسے شخص کی لذت نقصان سے پاک ہے۔اس لذت کے بعد کوئی بدی اس کی لذت میں رخنہ نہیں ڈالتی۔مگر وہ شخص جو ہاتھ نہیں کھینچتا وہ سمجھتا ہے میں زیادہ لذت اٹھا رہا ہوں۔وہ کھاتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ پیٹ تن جاتا ہے اور اس وقت جبکہ جس نے ہاتھ کھینچ لیا تھا وہ آرام کی نیند سویا ہوا ہے ، مزے لے رہا ہے، کھانے کا مزہ بھی باقی ہے، اس کے بعد جو غنودگی ہے اس نے بھی لطف دیا ایک سایہ تسکین کا پیدا ہوا اور کوئی تکلیف نہیں اور جو لگتا تھا کہ بھوک رہ گئی ہے بھوک خود بخو دمٹ جاتی ہے کیونکہ اس بات کو ڈاکٹر جانتے ہیں کہ انسان جب بھوک مٹائے تو اصل میں ضرورت سے زیادہ کھا چکا ہوتا ہے ابھی بھوک کچھ باقی ہو اور چھوڑ دے تو تھوڑی دیر میں ہی وہ کھانا میٹھے میں تبدیل ہو کر خون میں گھلنے لگتا ہے تو بھوک مٹادیتا ہے اور جتنا کھانا وہ بھوک مٹانے کے لئے کافی ہے وہ بھوک مٹنے سے پہلے کافی ہوتا ہے۔جب مٹتی ہے بھوک اس وقت ضرورت سے زیادہ کھایا جاتا ہے تو دیکھیں جو قرآن کریم نے فرمایا اور حدیث نے جس پر روشنی ڈالی وہی مضمون ہے جس میں تسکین بھی ہے اور لذت بھی ہے۔تو اللہ تعالیٰ آپ کو لذتوں سے محروم نہیں کرتا۔یہ فرماتا ہے کہ اگر ہمارے کہنے میں آؤ ہماری ہدایت کے مطابق لذتوں کی پیروی کرو تو ان میں کوئی بھی نقصان کا پہلو نہیں ہو گا۔کوئی حسرتیں اس کے بعد تمہارا دامن نہیں پکڑیں گی۔اگر تم خود بخود بھاگے پھرو گے تو لذت ایک حد کے بعد حاصل ہونا