خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 195 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 195

خطبات طاہر جلد 15 195 خطبہ جمعہ 8 / مارچ 1996ء کولازماً غلط سمت میں لے کے جائے گی اور اندھیرے میں سراب دکھائی دے ہی نہیں سکتا۔اگر کچھ نہ دکھائی دے تو کم سے کم چند منٹ چین سے تو انسان بیٹھ سکتا ہے مرے تو وہیں نسبتاً زیادہ آرام کی حالت میں جان دے ورنہ ہر قدم جو سراب کی طرف اٹھاتا ہے اس کی پیاس بڑھتی چلی جاتی ہے۔تو سب سے خطرناک وہ اندھیرا ہے جیسا کہ قرآن کی کریم آیات کی ترتیب نے بھی ہمیں سمجھا دیا جو بظا ہر روشنی ہے مگر اپنے نفس کا اندھیرا ہے جس نے ہر روشنی کو بے معنی اور بے حقیقت کر دیا ہے اور اس میں غیر کی مدد کی حاجت نہیں ہے۔کوئی شیطان بیرونی ہو یا نہ ہو تمہارا اپنا شیطان بہت کافی ہے۔پس اس لئے جو یہ دعا ہے من شرور انفسنا کہ اے اللہ ! ہمیں اپنے نفس کے شرور سے بچا یہ بہت اہم دعا ہے جس کے بغیر ہمارا اندھیروں سے روشنی کی طرف سفر ممکن نہیں ہے۔پس باقی مضمون انشاء اللہ اگلے جمعہ میں شروع کروں گا جو زیادہ تر اس آیت کے دوسرے حصہ سے تعلق رکھتا ہے لیکن پہلے حصے کا دوسرے حصے سے موازنہ کرنے کی خاطر آپ کو یہ سمجھانے کے لئے کہ پہلا اندھیر انفس کا اندھیرا ہے دراصل اور اس اندھیرے کا سوائے اس کے کوئی علاج نہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ سے دعا مانگے ورنہ کان سنیں گے اور سننا نہ چاہیں گے۔سنتے بھی ہوں تو سننا نہیں چاہیں گے۔آنکھیں دیکھ بھی رہی ہوں آپ دکھا ئیں وہ دیکھنا نہیں چاہیں گی ایسے شخص کا کیا علاج ہو سکتا ہے سوائے اس کے کہ اللہ اس کے دل میں ایک تغیر پیدا فرمادے۔اسی لئے آنحضرت میں نے شرور انفسنا کی دعا سکھا کر دیکھیں ہم پر کتنا بڑا احسان فرمایا ہے تاکید فرمائی خطبات میں اس کو ہمیشہ بیان کیا انہی آیات کو پڑھاتا کہ ہم اپنے نفس کے شر سے بچتے رہیں اس سے بڑا اور کوئی شر نہیں جو انسان کے اندر سے پیدا ہو۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے کہ اس شر سے بچیں تو پھر ہماری آنکھیں کام کریں اور ہمیں دکھائی دینے لگے۔آمین