خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 191 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 191

خطبات طاہر جلد 15 191 خطبہ جمعہ 8 / مارچ 1996ء ہرگز نہیں دیکھ سکے گا ایسا تجربہ بسا اوقات ہوا ہے۔بنگلہ دیش میں ایک دفعہ ایک واقعہ گزرا کہ وہاں کے کچھ دینی مدرسے کے طالب علموں نے یہ سوچا کہ احمدیت کو ہم جانتے ہیں جھوٹی ہے لیکن چلو دیکھیں تو سہی ایک بحث کر کے دیکھیں کہ دوسری طرف کے دلائل ہیں کیا ؟ اور اگر ہم طلبہ میں ایسی بحث تیار کر کے پیش کریں تو پھر قادیانیوں کو یا مرزائیوں کو جو بھی وہ کہتے تھے یہ موقع تو نہیں ملے گا کہ بعد میں اپنے دلائل دیں اور ہمارے طلبہ متاثر ہو جائیں مگر کوشش یہ کرنی چاہئے کہ جس طرح قادیانی بات کرتے ہیں ویسی کی جائے۔چنانچہ وہ وفد جس نے Debate کا ایک حصہ اپنے لئے اختیار کیا تھا وہ ہمارے مربی صاحب اور امیر وغیرہ کی خدمت میں پہنچ گیا انہوں نے کہا یہ مقصد ہے ہمیں صرف آپ اپنے دلائل بتا ئیں اور یہ سمجھا ئیں کہ آپ کس طرح پیش کرتے ہیں۔چنانچہ جب انہوں نے دلائل احمدی نقطہ ء نظر سے دیکھے تو سب کا دل قائل ہو گیا۔انہوں نے کہا او ہو یہ تو ہیں ہی بچے۔اب مجھے یہ یاد نہیں کہ وہDebate اساتذہ نے پوری ہونے بھی دی تھی کہ نہیں مگر وہ احمدی جو اس میں شامل تھے انہوں نے بتایا کہ ان کا پلڑا اتنا بھاری رہا کہ علماء میں وہاں سراسیمگی پھیل گئی کہ یہ کیا واقعہ ہوگیا ہم تو کچھ اور کرنے نکلے تھے کچھ اور نکل آیا۔تو زاویہ بدلنے سے بعض چیزیں دکھائی دیتی ہیں اور انسان کا فرض ہے کہ تکبر سے کام نہ لے۔یہ دیکھ لے کہ ناصح خود غرض ہے اور بدیہی طور پر غلط چیز کی طرف بلا رہا ہے یا ہماری بھلائی کی طرف بلا رہا ہے۔اب بدیہی طور پر بعض چیزیں غلط ہوتی ہیں مثلاً ایک آدمی کہتا ہے جھوٹ بولو میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں تمہارے فائدے کی چیز ہے۔روشنیوں سے جو شخص بظاہر روشنی میں دیکھ رہا ہے اس کو اس وقت یہ نظر ہی نہیں آئے گا کہ جھوٹ سے تو کوئی فائدہ وابستہ ہو ہی نہیں سکتا۔صاف دیکھتا ہے کہ ہاں ہے۔اگر کوئی دوسرا کوئی اس کو کہے کہ دیکھو جھوٹ نہ بولو تو اسے وہ دھتکارنے کا حق نہیں رکھتا کیونکہ جھوٹ نہ بولنا ایک بدیہی صداقت ہے جس کے خلاف فطرت از خود کوئی آواز نہیں اٹھاتی۔اگر کسی کو کہو جھوٹ نہ بولیں تو یہ نہیں کہ سکتا کہ تم بد انسان ہو، گندے ارادے کے ساتھ بات کر رہے ہو۔وہ تو یہ کہہ سکتا ہے جاؤ جاؤ اپنا رستہ لو میں زیادہ سمجھدار ہوں مجھے پتا ہے جھوٹ سے فائدہ ہوتا ہے مجھے پتا ہے بعض جگہ جھوٹ بولے بغیر گزارہ ہی کوئی نہیں۔اگر ایسے شیطان کی بات انسان مان لے تو بظاہر وہ ایک روشنی کا فیصلہ کر رہا ہے وہ جانتا ہے کہ یہی قاعدہ ہے جھوٹ سے فائدہ ہے مگر