خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 168 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 168

خطبات طاہر جلد 15 168 خطبہ جمعہ یکم مارچ 1996ء والسلام فرماتے ہیں وہ عقل کے چشمے سے پھوٹتے ہیں۔پس اپنی عقلوں کو صیقل کر اور نہ تمھیں کچھ سمجھ نہیں آئے گی کہ نور ہے کیا؟ کیا پاؤ گے، کیسے سمجھو گے، جب تک عقل سلیم اور وہ ایک چمکتی ہوئی معقل جس کو ایک تیل سے تشبیہہ دی گئی ہے جب تک وہ تمہیں میسر نہیں آئے گی۔پھر فرماتے ہیں۔پھر ان تمام نوروں پر ایک نور آسمانی جو وحی ہے۔نازل ہونا بیان فرمایا۔یہ نو روحی ہے۔“ یہ کمل تصویر بنتی ہے۔دل ہو تو ایسا ہو ، عقل ہو تو ایسی ہو پھر اس پر وہ آسمان سے وحی کا نور اترے، پھر وہ شخص ہے جو دعوت الی اللہ کا مستحق بنتا ہے۔تو نو روحی نے اذن کا کام کیا ہے۔نور وحی کے بغیر اذن ہے ہی نہیں۔نور وحی کے بغیر کسی کو اس کے پیچھے چلنے کی ہدایت بھی موجود نہیں ہے۔فرمایا: فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُّوحِي ( الحجر : 30) - میں آدم کو ٹھیک ٹھاک کرلوں گا یعنی اس کو عقل بخش دوں ، اس کا توازن پیدا کر دوں، اس کی صفات حسنہ کو متوازن بنا دوں پھر بھی تم نے اس کی پیروی نہیں کرنی۔وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ روحی جب میرا اذن اس پر اترے، شعلہ امر نازل ہو تب وہ اس لائق ہو گا کہ تم نے اس کی پیروی کرنی ہے تب وہ داعی الی اللہ کے مقام پر کھڑا ہو جاتا ہے اور پھر سب دنیا کو اس نور کی طرف بلاتا ہے جو اللہ تعالیٰ اسے عطا فرماتا ہے۔فرماتے ہیں۔”۔۔۔یہی حقانی اصول ہے جو وحی کے بارے میں قد وسِ قدیم کی طرف سے قانون قدیم ہے اور اس کی ذات پاک کے مناسب۔پس اس تمام تحقیقات سے ثابت ہے کہ جب تک نور قلب و نور عقل کسی انسان میں کامل در جے پر نہ پائے جائیں تب تک وہ نو روحی ہرگز نہیں پاتا جب تک یہ دونوں نور کامل نہ ہوں یعنی اس کے اندر ظرف کے مطابق کامل سے مراد ہر شخص کا اپنا ظرف ہے اس کو بھی دیکھنا ہوگا۔تو مراد یہ نہیں ہے کہ ہر شخص کو ایک ہی جیسا نو روحی عطا ہوتا ہے۔فرمایا اس کی ذات میں جو کچھ بھی صلاحیتیں ہیں جب وہ درجہ کمال کو پہنچ جائیں تب ان پر یہ شرط ہے کہ ان کے درجہ کمال پر پہنچنے کے بعد نور وحی نازل ہوگا اور نہ ہرگز نہیں۔ایسا نو ر اس کو عطا نہیں ہوتا جو