خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 164
خطبات طاہر جلد 15 164 خطبہ جمعہ یکم مارچ 1996ء اور جو کچھ ان میں ہے ان کے ذکر سے اور پھر فرماتا ہے اور خدا کے نور کی مثال جو اعلیٰ مثال ہے، جو ارفع مثال ہے وہی ہے جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكُوةٍ فِيْهَا مِصْبَاحُ اور یہاں آنحضرت ﷺ مراد ہیں لیکن آپ کے متعلق فرمایا آپ منجملہ گروہ انبیاء میں سے ہیں اور یہ جونور کا عطا ہونا ہے اس نور وحی کا جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آخری درجہ کمال کی صورت میں پیش فرمارہے ہیں یہ انبیاء کے سوا دوسروں کو نہیں ملتا۔کوئی ان میں انبیاء کا شریک نہیں ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں، میں کچھ حصے چھوڑ کر آپ کو وہ باتیں بتانا چاہتا ہوں جن پر اس مضمون کو میں ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔فرمایا؛ وو۔۔۔ورنہ نور کے فیض کے لئے نور کا ضروری ہونا ایسی بدیہی صداقت ہے کہ کوئی ضعیف العقل بھی اس سے انکار نہیں کر سکتا۔۔نور تو ملتا ہے انسان کو مادے کو بے جان چیزوں کو بھی ملا اور جتنا ان کے اندر ظرف ہے اتنا ہی آسمان سے نو را ترتا ہے ان پر ، اسی قدر ان کا تعلق اللہ جل شانہ کے ساتھ قائم رہتا ہے۔اب انبیاء کو جونور ملا ہے وہ ان کے اندرونی نور کا مظہر ہے اور ان کے اندرونی نور سے ایک مناسبت رکھتا ہے۔فرماتے ہیں یہ تو ایک ایسی ظاہری سچائی ہے کہ ایک ضعیف العقل کو بھی معلوم ہو جاتی ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عقل اتنی روشن تھی کہ آپ کے معیار کے مطابق ایک ضعیف العقل کو بھی معلوم ہونی چاہئے مگر وہ دنیا والے جو نبی کے نور سے روشن نہ ہوں وہ قوی العقل بھی اس بات سے محروم ہیں بے چارے کیونکہ ان کے اندر وہ نور نہیں ہے جونور کی باتیں سمجھ سکتا ہو۔مگر ان کا کیا علاج اب ان کا ذکر بھی فرمارہے ہیں۔ضعیف العقل کو بھی معلوم ہونا چاہئے مگر ضعیف العقل سے مراد ہے وہ عقل کی تعریف جو قرآن کریم نے بیان فرمائی ہے وہ جن لوگوں پر صادق آتی ہے وہ تھوڑی عقل بھی رکھتے ہوں تو ان کو بھی پتا لگ جائے گا اس مضمون کا۔مگر جہاں تک دنیا والوں کی باتوں کا تعلق ہے فرماتے ہیں۔مگران کا کیا علاج جن کو (اس) عقل سے ( یعنی اس کا لفظ نہیں ہے مگر مراد یہ ہے اس عقل سے) کچھ بھی سروکار نہیں اور جو کہ روشنی سے بغض اور اندھیرے سے پیار کرتے ہیں اور چمگادڑ کی طرح رات میں اُن کی آنکھیں خوب کھلتی ہیں۔“ یعنی مذہب کے علاوہ بات ہو د نیا داری کے اندھیرے ہوں جن کا خدا سے تعلق وہ نہ باندھ