خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 163 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 163

خطبات طاہر جلد 15 163 خطبہ جمعہ یکم مارچ 1996ء فیض کا مستحق وجود ہو۔وجود نہ بھی ہو تو رحمان خدا، از خود اپنے کرم اس طرح نچھاور کرتا ہے جیسے خودرو چشمے سے پانی ابلتا ہے۔قطع نظر اس کے کہ کوئی پیاسا وہاں موجود ہے کہ نہیں ہے۔قطع نظر اس کے کہ وہ پانی کسی ایسی زمین تک پہنچتا ہے کہ نہیں، کہ وہ سیراب ہونے کا تقاضا کر رہی ہو۔پس اس پہلو سے یہ فیضان عام ہے جس کو نُورُ السَّمواتِ وَالْاَرْضِ میں فرمایا گیا۔اس کا دوسرا نام رحمانیت ہے۔۔۔۔یہی فیضان ہے جس نے دائرہ کی طرح ہر یک چیز پر احاطہ کر رکھا ہے وو جس کے فائز ہونے کے لئے کوئی قابلیت شرط نہیں لیکن بمقابلہ اس کے ایک خاص فیضان بھی ہے جو مشروط بشرائط ہے اور انہی افراد خاصہ پر فائض ہوتا ہے جن میں اس کے قبول کرنے کی قابلیت واستعداد موجود ہے یعنی نفوس کا ملہ انبیاء یھم السلام پر۔۔۔“۔۔۔تو جس نور عام کا ذکر خاک کے ذکر سے شروع فرمایا اب اس کا انتہائی مقام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرمارہے ہیں وہ وجود خاصہ ان افراد پر مشتمل ہے۔جنہیں ہم انبیاء علیہم السلام کہتے ہیں۔”۔۔۔جن میں سے افضل اور اعلی ذات جامع البرکات حضرت محمد مصطفی امی ہے۔دوسروں پر ہرگز نہیں ہوتا۔۔۔“ یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات ہے جو سب انبیاء سے افضل جامع برکات ہے۔اس گروہ کے سوا وہ نور ” دوسروں پر ہر گز نہیں ہوتا یعنی وہ نور جو آسمان سے نازل ہوتا ہے وہ ان کے سوا کسی اور پر نازل نہیں ہوتا۔وو۔۔۔اور چونکہ وہ فیضان ایک نہایت باریک صداقت ہے اور دقائق حکمیہ میں سے ایک دقیق مسئلہ ہے۔اس لئے خدا وند تعالیٰ نے اول فیضانِ عام کو ( جو بدیہی الظہور ہے ) بیان کر کے پھر اس فیضانِ خاص کو بغرض اظہار کیفیت نور حضرت خاتم الانبیاء ﷺ ایک مثال میں بیان فرمایا ہے کہ جو اس آیت سے شروع ہوتی ہے۔مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكُوةٍ فِيْهَا مِصْبَاحُ (النور: 38 )۔فرمایا چونکہ اصل غرض نور کی جلوہ گری کی جس کا آخری جلوہ پیدا کرنا تھا جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات میں وجود میں آیا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے کلام میں یہ شان دکھائی دیتی ہے کہ آغاز فرماتا ہے کا ئنات کا بے جان چیزوں سے خاک سے ، مادے سے، دنیا سے، زمین و آسمان 66