خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 148
خطبات طاہر جلد 15 148 خطبہ جمعہ 23 فروری 1996ء لگتی ہے۔یہی مضمون ہے جو ہم دنیا میں ہالوں کی صورت میں دیکھتے ہیں۔ایک روشنی کسی جگہ مرکز ہوتی ہے اور اس کے ارد گرد ایک ہالہ بن جاتا ہے اور ظلمت سرکنے لگتی ہے۔اس جگہ کو چھوڑتی ہے اور بھاگتی ہے جہاں نو را تر آیا ہے۔اسی مضمون کو قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے۔جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا (بنی اسرائیل: 82) حق سے باطل گھبراتا ہے جیسے نور سے ظلمت گھبراتی ہے اور جہاں وہ ایک دفعہ جگہ بنالے اردگرد سے تاریکیاں زائل ہونے لگتی ہیں شروع میں سایہ دار جگہ دکھائی دیتی ہے کچھ اندھیرے، کچھ روشنی مگر پھر جب پوری پا کی اور صفائی عطا ہو جائے تو نور پھیل کر اپنی جگہ اور بنالیتا ہے۔یہ وہ مضمون ہے جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان الفاظ میں کھول رہے ہیں: نور کو نور سے مناسبت ہے اور حکیم مطلق بغیر رعایت مناسبت کوئی کام نہیں کرتا۔ایسے ہی فیضان نور میں بھی اس کا یہی قانون ہے کہ جس کے پاس کچھ نور ہے اسی کو اور نور بھی دیا جاتا ہے اور جس کے پاس کچھ نہیں اس کو کچھ نہیں دیا جاتا۔جو شخص آنکھوں کا نور رکھتا ہے وہی آفتاب کا نور پاتا ہے اور جس کے پاس آنکھوں کا نور نہیں وہ آفتاب کے نور سے بھی بے بہرہ رہتا ہے اور جس کو فطرتی نور کم ملا ہے اس کو دوسرا نور بھی کم ہی ملتا ہے اور جس کو فطرتی نور زیادہ ملا ہے اس کو دوسرا نور بھی زیادہ ہی ملتا ہے اور انبیاء من جملہ سلسلہ متفاوتہ فطرت انسانی کے وہ افراد عالیہ ہیں جن کو اس کثرت اور کمال سے نور باطنی عطا ہوا ہے کہ گویا وہ نور مجسم ہو گئے۔( براہین احمدیہ حصہ سوم، حاشیہ نمبر 11 روحانی خزائن جلد 1 صفحه 195 تا 196 ) انبیاء وہ انسان ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے اول فطرتاً اپنا نور ودیعت فرمایا، نور حق ودیعت فرمایا اور پھر انہوں نے اپنے سارے وجود کو اس نور میں رنگ دیا ہے جیسے مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔دل کو ان نوروں کا ہر رنگ دلایا ہم نے آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 225 )