خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 130
خطبات طاہر جلد 15 130 خطبہ جمعہ 16 فروری 1996ء (سنسن ابن ماجه كتاب الدعاء باب الدعا بالعفو و العافية ) کہ اے میرے اللہ تو بہت بخشش کرنے والا ہے تحب العفوتو تو بخشش سے محبت کرتا ہے فاعف عنی پس مجھ سے بخشش کا سلوک فرما۔اب یہ دیکھنے کی بات ہے بڑی اہم بات ہے کہ کوئی مثبت چیز مانگنے کی نصیحت نہیں فرمائی گئی۔بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک منفی دائرے کی دعا ہے کہ جو پہلے گناہ تھے وہ مٹ جائیں اور پہلے گناہوں سے خدا تعالیٰ ہمیں بخشش عطا فرمائے لیکن یہ نہیں فرمایا کہ اس کے بعد کیا مانگو۔امر واقعہ یہ ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے لَيْلَةُ الْقَدْرِ کا مضمون ہی اس بات سے تعلق رکھتا ہے کہ اگر بخشش ہوئی تو صبح ہوگئی اور جو صبح ہے وہ پھر ایک مثبت دائمی رہنے والی حالت کا نام ہے جو پھر کبھی رات میں تبدیل نہیں ہوگی یعنی انسان کی باقی تمام زندگی اس صبح کی حالت میں کئے گی۔تو استغفار کا مضمون سکھایا ہے۔فرمایا ہے اگر تمہیں یقین ہو جائے کہ لَيْلَةُ الْقَدْرِ ہے تو پھر بخشش ہی کی دعا کرنا یہی تمہارے لئے بہت کافی ہے۔اگر خدا تعالیٰ تمہارے پچھلی زندگی کے سارے گناہ باطل کر دے اور ان پر بخشش کی اور رحمت کی چادر ڈال دے تو پھر تم امن میں آگئے ہو تمہیں اس کے سوا اور کسی چیز کی ضرورت نہیں۔پس سب سے پہلے تو اس دعا پر زور دینا چاہئے کہ اے خدا تو عفو ہے بہت ہی بخشش کرنے والا ہے، بخشش سے محبت کرتا ہے ہم سے بھی یہ سلوک فرما اور بخشش کی طلب کے لئے جو پہلے فیصلہ ہونا ضروری ہے اس کا اسی مضمون سے تعلق ہے جو میں بیان کر چکا ہوں کہ اِنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُخَيَّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِم یہ ناممکن ہے کہ آپ بخشش کے لئے دعا مانگیں اور گناہوں پر اصرار کا عزم ساتھ ساتھ جاری رہے۔یہ ناممکن ہے کہ دل کی گہرائی سے آپ یہ چاہیں کہ اے خدا میرے گناہ بخش دے اور فیصلہ کریں کہ تو بخش دے میں نے پھر بھی کرنے ہیں اور نہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔یہ جو ایک منفی پہلو ہے وہ دل میں موجودرہتا ہے خواہ انسان باشعور طور پر اسے سمجھے نہ سمجھے اور اکثر لوگ بخشش کی دعا اس فیصلے کے بغیر مانگتے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ کیا کیا برائیاں ان کے اندر ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ سارا سال انہوں نے کیا کیا گناہ کئے ،کس کس قسم کی غلطیوں میں مبتلا ہوئے۔سب کچھ سمجھنے کے باوجود وہ خالی بخشش مانگتے ہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے تو باز نہیں آنا ہم تو نا فرمانی پر قائم رہیں گے۔اس لئے تیرا کام ہے تو بخش تو بخشتا