خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 129
خطبات طاہر جلد 15 129 خطبہ جمعہ 16 فروری 1996ء ایک صبح پھوٹ پڑے گی اور جب صبح پھوٹ پڑے گی تو رات کے سارے اندھیرے ماضی بن گئے وہ خوابوں کی باتیں ہو گئیں اور صبح جب پھوٹتی ہے تو پھر اندھیروں کا کوئی حصہ باقی نہیں رہتا وہ زمانہ گزر جاتا ہے۔پس اسی لئے میں نے کہا کہ دائمی ہے۔یہ فرشتے اترتے ہیں اور جب اندھیری رات صبح میں تبدیل ہو جاتی ہے پھر ہمیشہ انسان اسی نور میں رہتا ہے ، اسی نور میں زندگی بسر کرتے ہوئے اپنے خدا کے حضور حاضر ہوتا ہے۔اس پہلو سے اس رات کی تلاش کرنی چاہئے جو انفرادی رات ہے۔اس تعلق میں احادیث کا مطالعہ کریں تو آنحضرت ﷺ کی سیرت کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ آپ خصوصیت سے اس رات کی تلاش آخری دس راتوں میں کیا کرتے تھے اور بہت ہی غیر معمولی انہماک سے نیکیاں بڑھا دیا کرتے تھے۔جب پہلی دفعہ میں نے اس حدیث کو پڑھا تو مجھے بڑا تعجب ہوا کہ آنحضرت ﷺ کی زندگی میں جولمح لمحہ خدا کے لئے وقف تھا نیکیاں بڑھانے کی گنجائش کہاں تھی کیونکہ وہ حد استطاعت تک پہنچی ہوئی تھیں۔مگر پھر مجھے یہ بات سمجھ آئی کہ ہر لمحے کے اندر بھی اپنی ایک شان ہوا کرتی ہے اور روح پکھل کر ہر لمحے کو ایک نئی شان بھی عطا کرسکتی ہے۔پس آنحضرت ﷺ ان معنوں میں تو نیکیاں نہیں بڑھا سکتے تھے کہ بعض لمحے جو نیکیوں سے عاری تھے ، خالی تھے ، ان میں بھی نیکیاں بھر دیں کیونکہ آپ کا تو لحہ لمحہ مجسم نیکی تھا۔مگر خدا تعالیٰ کی عبادت میں ، اس کے حضور گریہ وزاری میں ایک ایک لمحے کو ایک نیا نور عطا کرنے کے لئے آپ جو محنت فرمایا کرتے تھے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ آخری عشرہ آتا تو رسول اللہ ﷺ اپنی کمرکس لیا کرتے تھے اور راتوں کو خود بھی جاگتے تھے اور گھر والوں کو بھی جگاتے تھے۔کہتے اٹھو اٹھو یہ سونے کے دن نہیں ہیں جا گوتا کہ تمہاری زندگی دن میں تبدیل ہو جائے۔یہ بخاری کتاب فضل ليلة القدر سے حدیث لی گئی ہے۔(صحیح بخاری کتاب فضل ليلة القدرباب العمل في العشر الأواخر من رمضان ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ سے ایک دفعہ پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ یہ لیلۃ القدر ہے تو اس میں کیا دعا مانگوں۔اس پر حضور نے فرمایا تم یوں دعا کرنا : اللهم انك عفو تحب العفو فاعف عنى ،،