خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 111 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 111

خطبات طاہر جلد 15 111 خطبہ جمعہ 9 فروری 1996ء کہیں وہ اپنے مندروں میں لوبان جلاتے ہیں، کہیں کئی قسم کی خوشبودار چیزیں چھڑکتے ہیں کہیں وہ عطر خود پہن کر یا لگا کر چلتے ہیں تو مسجد کے ساتھ خوشبو کا ایک تعلق ہے ، گرجوں کے ساتھ بھی خوشبو کا تعلق ہے، مندروں کے ساتھ بھی خوشبوؤں کا تعلق ہے تو مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو خوشبو پسند ہے اس لئے نہیں کہ وہ خود سونگھتا ہے۔اس لئے کہ تم سے محبت ہے تم سے پیار ہے تم جو اچھے لگتے ہو تو خدا کو بھی یہ اچھا لگتا ہے تم جب خوشبودار ہوتو اللہ کو گو یا تمہاری خوشبو کا لطف آ رہا ہے اور اس کے باوجود رمضان میں تمہارے منہ کی بدبو کا اس کو علم ہے اور جانتا ہے کہ تم تکلیف میں ہو لیکن خدا کی خاطر ہو، یہ تکلیف خدا کی خاطر اٹھارہے ہو، بد بو سے گزارا کر رہے ہو اللہ کی خاطر۔تو یہ بات اللہ کو پسند ہے کہ دیکھو میرا بندہ جس کو میں نے بہت ہی پاکیزگی کی تعلیم دی ، پاکیزگی کی عادات ڈالیں ،جس کو بار بارصاف ستھرا ہونے کے سلیقے سکھائے، پانچ دفعہ وضو کرتا ہے، ہر گندی چیز سے بچنے کی کوشش کرتا ہے آج میری خاطر ایک ایسا کام کر رہا ہے کہ اتنے لطیف مزاج کا، اتنے صاف ستھرے مزاج کا انسان منہ میں بد بولئے پھر رہا ہے اور بے بس ہے۔تو یہ پیار کی کیفیت ہے۔اپنا بچہ، اپنا عزیز جب کسی کی خاطر کوئی گند بھی لگا بیٹھے تو وہ گند اس وقت اچھا لگتا ہے کہ اس نے اس کی خاطر کیا ہے۔کئی دفعہ ایک انسان کسی چیز کو پکڑنے لگتا ہے جو نسبتا گندی ہو تو کوئی پیار کرنے والا آگے بڑھ کر لپک کر اس کو ہاتھ میں اٹھا لیتا ہے۔اب اس وقت کا اس کا گندا ہا تھ اس کو برا تو نہیں لگا کرتا۔کون کہہ سکتا ہے اوں ہوں تم نے تو ہاتھ گندا کر لیا۔ہاتھ گندا کیا محبت کی خاطر اور وہ گندا ہاتھ پیارا لگ رہا ہوتا ہے اس پر رحم تو آتا ہے اس سے نفرت پیدا نہیں ہوتی۔پس یہ معنی ہے کہ خدا کو روزے دار کے منہ کی بد بو بھی پیاری لگتی ہے اور رسول اللہ اللہ فرماتے ہیں کہ خوشبوؤں میں کستوری کو ، مشک کو ایک مقام ہے تو ساری دنیا میں شاعروں کی زبان پر جاری رہتا ہے کہ مشک کی خوشبو بہت ہی پاکیزہ اور عظیم خوشبو ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مشک کی خوشبو سے زیادہ خدا کو روزے دار کے منہ کی بدبو پسند ہے جو خدا کی خاطر اس بد بو کے ساتھ نبھانے کی کوشش کرتا ہے۔پھر فرمایا کہ جب جھگڑیں تو جواب میں کہے ” میں تو روزے دار ہوں یہ بحث ہے جواب میں کہے ”میں تو روزے دار ہوں یہ ایک ایسی دلچسپ چیز ہے جس کے کئی پہلو ہیں اصل میں۔ایک تو یہ کہ جب آدمی کہے میں تو روزے دار ہوں تو اس وقت اس کا کسی اشتعال سے رک جانا اس اشتعال سے رک جانے کو ایک نیکی بنادیتا ہے اور اس کے دل میں احساس جاگ اٹھتا ہے کہ میں خدا کی خاطر