خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 995
خطبات طاہر جلد 15 995 خطبہ جمعہ 27 دسمبر 1996ء۔ایسا ادا نہ کیا جائے جس میں خدا کی محبت کی آمیزش نہ شامل ہو۔اگر خدا کی محبت کی آمیزش شامل ہو جائے تو سب کچھ مل گیا پھر آگے بڑھنے کی توفیق بھی ملتی ہے اور غیر معمولی طور پر ملتی ہے اور اُس نصب العین سے اس کا کوئی مقابلہ نہیں ہے بلکہ اُس کو بڑھانے والی چیز ہے اور نیکیوں کو نور بنادینے والا نسخہ یہی ہے کہ ہر نیکی کی نیت میں اللہ تعالیٰ کی محبت اثر انداز ہو یعنی نیکیاں دراصل اللہ کی محبت سے پھوٹیں۔وہ چیزیں جو نور سے پھوٹتی ہیں وہ نور ہی رہیں گی اور یہ ہو نہیں سکتا کہ وہ کثیف ہو جائیں۔پس اس پہلو سے آپ کو مختصر انصیحت یہی ہے کہ جب یہ آپ کو الف سنیں گے اور قربانیوں کی دوسری تحریکیں بھی آپ کے سامنے پیش کی جائیں گی تو ہمیشہ اللہ کی محبت کو اپنے دل میں پہلا مرتبہ دے کر اور اس کے حوالے سے قربانیوں کے لئے اپنے آپ کو تیار کریں۔پھر خدا کے فضل سے آپ کی قربانیوں میں کبھی کوئی رخنہ نہیں آئے گا اور بے حد ایسی برکتیں شامل ہو جائیں گی جن کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے یعنی اجر کریم آپ کو عطا کیا جائے گا۔وقف جدید کا یہ ا کیا لیسواں (41) سال ہے اور یکم جنوری 1997 ء سے ہم بیالیسویں سال میں داخل ہونے والے ہیں۔رپورٹوں کے معاملے میں گزشتہ سال بھی یہ شکایت تھی کہ بہت سے ممالک سست رفتاری سے رپورٹیں بھجواتے ہیں اور بسا اوقات ایسے ممالک بھی ہوتے ہیں جہاں جدید ترین طریق رسل و رسائل کے مہیا نہیں ہیں اس لئے جو نسبتاً بعد میں شامل ہونے والے ممالک ہیں ان کی تربیت میں ابھی زیادہ وقت درکار ہے اور ان کے ہاں وقف جدید کا نظام بھی اس طرح جاری نہیں جس طرح پہلے سے شامل ہونے والے ترقی یافتہ ، تربیت یافتہ ممالک میں ہے۔تو اگر چہ اس وقت جماعتوں کی تعداد یعنی ممالک کی تعداد غالباً ایک سو باون یا اس سے اوپر ہو چکی ہے تو اتنی بڑی تعداد میں سے صرف چھپن کا رپورٹیں بھجوانا بتاتا ہے کہ کتنا بڑا کام ابھی ہم نے کرنا ہے ان کی تربیت کا اور وقف جدید ہی کا ایک یہ مقصد ہے کہ دیہاتی اور نئے غیر تربیت یافتہ ممالک کی تربیت کی جائے۔پس اس پہلو سے یہ جو بیالیسواں (42) سال ہے اس میں ہم اپنے سامنے ایک کام کا پہاڑ کھڑا ہوا دیکھتے ہیں۔چھپن ممالک نے رپورٹ بھیجی ہے اور اکثر جنہوں نے نہیں بھیجی یا تو کام بہت معمولی ہوا ہے یا ابھی وہ تربیت کے محتاج ہیں۔تو ان چھپن ممالک نے تقریباً ایک سو چھپن کی تربیت کرنی ہے اور یہ جو چندہ ملے گا یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہی مقاصد پر خرچ ہوگا۔وقف جدید میں جو