خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 92
خطبات طاہر جلد 14 92 خطبہ جمعہ 3 فروری 1995ء باطل جائے گا۔مفت کا عذاب ہے، گناہ بے لذت ہے یعنی یوں کہنا چاہئے ثواب ہے جو تکلیف دہ ثواب ہے لیکن ثواب نہیں ملتا۔ایسا ثواب ہے جو فرضی ثواب ہے۔تکلیف چھوڑ جاتا ہے ثواب نہیں ہوتا۔تو اس کا کیا فائدہ؟ اس لئے آنحضرت ﷺ نے جو نکتہ بیان فرمایا ہے اس کو سمجھیں گے تو آپ کی زندگی سنور جائے گی۔آپ اس بات کے اہل ہو جائیں گے کہ دوسروں کو نصیحت کر سکیں ، آپ کی بات میں طاقت پیدا ہوگی ، آپ کے گھر کے حالات بھی سنوریں گے۔روزمرہ جو اپنی بیویوں سے جھوٹ بولتے ہیں، اپنے بچوں سے جھوٹ بولتے ہیں۔دوستوں یاروں سے جھوٹ بولتے ہیں۔بزنس کے معاملات میں جھوٹ بولتے ہیں اور رشتوں کے تعلقات قائم کرنے کے لئے جھوٹ بولتے ہیں۔کون سا ایسا آپ کا زندگی کا دائرہ ہے جس میں آپ جھوٹ سے کام نہیں لے رہے۔تو اب رمضان میں اس بدبختی کو پیچھے چھوڑ کر جائیں۔یہ جو پل ہے یہ ہلاکت کے سمندر میں غرق کرنے والا پل ہے اور اس کو آپ جب تک فنا نہیں کر لیتے آپ کی فنا پر یہ خطرہ ہمیشہ کھڑا رہے گا۔اس لئے اللہ تعالیٰ سے توفیق مانگیں، دعا کریں اور جھوٹ کی لعنت سے خود بھی بچیں اور اگر ایسی قوموں میں آپ تبلیغ کر رہے ہیں جیسا کہ افریقہ ہے، پاکستان ہے ، ہندوستان ہے، بنگلہ دیش ہے اور دوسری قومیں ہیں جہاں بدقسمتی سے ان کی غربت کفر میں تبدیل ہوئی ہے اور غربت نے سب سے بڑی لعنت جھوٹ کی پیدا کی ہے اور غربت جھوٹ کی لعنت اسی وقت پیدا کیا کرتی ہے جبکہ اخلاقی قدریں کمزور ہو چکی ہوں اور حرص غالب آچکی ہو۔تو یہ ساری بیماریاں ہیں جنہوں نے مل کر ہمارے تیسری دنیا کے ملکوں کا امن اجاڑ دیا ہے، کچھ بھی وہاں باقی نہیں رہا، کوئی مستقبل کی امید بھی دکھائی نہیں دیتی۔ایک حکومت کے بعد دوسری حکومت آتی ہے ، وعدے کرتی ہے اور کوشش بھی کرتی ہے کہ کچھ بنے لیکن خود بھی انہی بیماریوں کی پروردہ حکومتیں ہیں جو بیماریاں سارے ملک میں ایک عذاب کی صورت میں پھیلی ہوئی ہیں۔پس اس کے لئے جھوٹ کے خلاف جہاد ایک بہت بڑا اور بنیادی جہاد ہے۔کل عالم میں جماعت احمدیہ کو اور ان کو جو داعی الی اللہ بننے کے دعوے دار ہیں خصوصیت سے جھوٹ کے خلاف پہلے اپنے نفس میں جہاد کرنا ہے۔یہ رمضان ختم نہ ہو جب تک ان کا جھوٹ ختم