خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 936 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 936

خطبات طاہر جلد 14 936 خطبہ جمعہ 15 دسمبر 1995ء برہان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے تم کو ملی ہے اور ایک کھلا کھلا نور ہے جو تمہاری طرف اتارا گیا ہے۔آج تمھارے لئے دین کامل کیا گیا اور تم پر سب نعمتیں پوری کی گئیں، پھر فرمایا! خدا اس کے ساتھ ان لوگوں کو سلامتی کی راہ دکھلاتا ہے جو خدا تعالیٰ کی مرضی کی پیروی کرتے ہیں اور وہ ان کو ظلمات سے نور کی طرف نکالتا ہے اور سیدھی راہ جو اس تک پہنچتی ہے ان کو دکھلاتا ہے۔اب یہی الفاظ بعینہ آنحضرت میے کے متعلق آتے ہیں کہ وہ ان کو ظلمات سے نور کی طرف نکالتا ہے۔پھر دیگر تمام صفات جو قرآن کریم کی یہاں بیان ہوئی ہیں جو میں نے دوبارہ پڑھ کر سنائی ہیں، یہ تمام صفات آنحضرت ﷺ کی بھی بیان ہوئی ہیں۔اس لئے میرے نزدیک اس بات میں ایک ذرے کا بھی شک نہیں کہ قرآن جب بھی محمد رسول اللہ ﷺے اور کتاب اللہ کا ذکر کر کے دونوں کی طرف یا ایک ضمیر سے اشارہ کرتا ہے تو وہ ضمیر دونوں پر شامل ہوتی ہے۔اس کی ایک اور دلیل ہمیں سورہ کہف کی پہلی آیت اور سورہ طلہ کی ایک درمیانی آیت سے ملتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى اَنْزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَبَ وَلَمْ يَجْعَلْ لَّهُ عِوَجًا ( كهف :2) وہی اللہ ہے جس نے اپنے بندے پر یہ کامل کتاب اتاری۔اب دو ذ کر ا کٹھے ہو گئے ایک بندہ اور ایک کتاب۔اور آخر پر یہ فرمایا وَلَمْ يَجْعَل لَّهُ عِوَجًا - لهما نہیں فرمایا بلکہ لہ فرمایا کہ ان میں کوئی کچھی نہیں رکھی۔اس دھوکے میں پڑ کر کہ ھما نہیں ہے بلکہ واحد کا لفظ ہے۔بہت سے مفسرین اور مترجمین نے اس کا ترجمہ کرتے وقت ضمیر کو ایک خاص طرف کر دیا۔چنانچہ اکثر تر جموں میں آپ کو یہ ضمیر قرآن کی طرف دکھائی دے گی۔ترجمہ کرنے والے اس کا مطلب سمجھتے ہیں کہ جب خدا نے کہا وَلَمْ يَجْعَلْ لَهُ عِوَجًا اس میں کوئی کبھی نہیں رکھی تو یا محمد رسول اللہ ﷺے مراد ہیں یا صلى الله قرآن مراد ہے اور قرآن کے حق میں اکثر مفسرین نے ترجمہ کر دیا کہ کتاب کی صفات بیان ہو رہی ہیں کتاب ہی مراد ہے لیکن بعض مفسرین نے اس مضمون کو بھانپ لیا اور یہ وضاحت کی کہ اس ضمیر میں محمد رسول اللہ یہ بھی شامل ہیں اور قرآن کریم بھی شامل ہے۔