خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 88 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 88

خطبات طاہر جلد 14 88 خطبہ جمعہ 3 فروری 1995ء ٹوٹ نہ جائے۔تو چھوٹے لوگ ، جب بڑوں کے درباروں میں رسائی پاتے ہیں تو ان کو فکر ہوتی ہے کہ وہ ہمیں نہ چھوڑ دیں۔جو بڑے ہیں ان کو کیا فکر ہے۔اگر چھوڑ بھی دیں تو ان کو کوڑی کی بھی پرواہ نہیں ہوگی لیکن نہ چھوڑیں تو کچھ تعلق بڑھتا ہی ہے۔پس اس پہلو سے آپ رمضان کی وہ برکتیں حاصل کریں گے کہ اگر خدا کا وجود آپ پر ظاہر ہو اور دل کامل یقین سے بھرے کہ ہم اپنی عمریں ضائع نہیں کر رہے اس کا ئنات کا ایک خدا ہے جو اس کائنات کے ہر ذرے کا بھی خدا ہے، ہر حقیر ترین ذرے کا بھی خدا ہے۔وہ بھی اگر خدا کا قرب چاہے تو اسے بھی عطا ہو سکتا ہے تو پھر ایک عظیم کائنات پر جلوہ گر رحمت آپ کی ذات پر جلوہ کرتی ہے۔وہ محض عالم پر نہیں چمکتی آپ کے دل کو کائنات بنا دیتی ہے اور اس دل میں چمکتی ہے۔اس مقصد سے دعائیں کریں اور اس مقصد سے دعائیں سکھائیں اپنی اولا د کو اپنے عزیزوں کو اور اپنے اقرباء کو۔اور اس ضمن میں میں داعیین الی اللہ کو خصوصیت سے متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ ان کو مستقلاً خدا کا بنا دینے کا ایک بہت ہی اچھا وقت ہاتھ آیا ہے۔آج کل جو نئے نئے احمد کی ہوئے ہیں، دنیا کے کونے کونے میں ہو رہے ہیں ، کوئی شرک سے آرہے ہیں کوئی دہریت سے آ رہے ہیں ، کوئی دوسرے مسلمانوں سے چلے آرہے ہیں جنہوں نے اب اسلام کا حقیقی نور پایا اور دیکھا اور پہچانا ہے۔غرضیکہ ہر قسم کے لوگ ہر ملک سے آرہے ہیں اور یہ تعداد خدا کے فضل سے دن بدن بڑھتی چلی جا رہی ہے ان کو سنبھالنے کا مسئلہ ہوا کرتا ہے اور میں داعین الی اللہ کونصیحت کرتا ہوں کہ اب رمضان میں ان کو اس طرح سنبھالیں کہ خدا کے ہاتھ میں ہاتھ پکڑا دیں۔اس سے بہتر سنبھالنے کا اور کوئی طریق نہیں ہے۔سارے مسائل ایک طرف سارے روز مرہ کے جھگڑے ایک طرف اور کسی کا ہاتھ خدا کے ہاتھ میں تھما دیا جائے یہ ایک طرف، اس کے بعد خدا اسے پکڑ لیتا ہے اور مضبوطی سے اس کو تھام لیتا ہے۔اب یہاں مضمون کچھ بدل گیا ہے۔میں نے کہا تھا کہ آپ چھوڑ دیں تو چھوڑ دیں لیکن اگر آپ خدا کا حقیقی عرفان حاصل کریں تو آپ چھوڑ نہیں سکتے۔اس کے برعکس اللہ چاہے تو چھوڑ دے لیکن انہی کو چھوڑتا ہے جو اس کا حقیقی عرفان حاصل نہیں کرتے ، ایک سرسری تعلق کے لئے اس کے پاس آتے ہیں۔تو اب میں جو آپ کو بات کہ رہا ہوں در حقیقت اس میں تضاد نہیں۔میں یہ کہتا ہوں کہ ان دنوں میں ان کا ہاتھ تھما دیں پھر وہ خدا اس کو سنبھال لے گا۔کچھ عرصہ ایسا گزرتا ہے خدا سے