خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 910 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 910

خطبات طاہر جلد 14 910 خطبہ جمعہ یکم دسمبر 1995ء نور عطا کر اور میرے بائیں بھی نور عطا کر دے۔یہاں نیکی اور بدی والا مضمون نہیں ہے۔یہاں محبت کی انتہا کا مضمون ہے کہ مجھے غرق کر دے اپنے نور میں۔میری ہر طرف نور سے روشن ہو جائے اور ان معنوں میں کہ بائیں طرف بھی نیکیوں کی آماجگا بن جائے۔یہ دعا اس مضمون سے تعلق رکھتی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میری رگوں میں بھی تمہاری رگوں کی طرح شیطان دوڑا کرتا تھا یعنی دوڑتا ہے طبعا لیکن وہ مسلمان ہو چکا ہے وہ کلیہ اپنے آپ کو خدا کے سپرد کر چکا ہے تو بائیں طرف سے ہمیشہ شیطان حملے کرتا ہے اور عموماً نور کا تعلق ان معنوں میں دائیں طرف سے رکھا جاتا ہے۔مگر جہاں محبت کا مضمون ہو جہاں عشق کی انتہاء ہو اور انسان یہ کہنا چاہے کہ اے خدا مجھے اپنے نور میں غرق کر دے وہاں بائیں طرف بھی نور مانگا جاتا ہے اور یہ نو ر آپ کو عطا ہو چکا تھا کیونکہ آپ ہی نے تو فرمایا ہے کہ میرا شیطان بھی مسلمان ہو گیا ہے۔وہ بھی بدی کی طرف نہیں بلکہ نیکی کی طرف ہدایت دے رہا ہے، میرانفس امارہ بھی گویا نیکی کی تعلیم دینے والا بن چکا ہے۔پس یہ مضمون ہے جس میں وہ مضمون جو میں نے پہلے بیان کیا تھا چونکہ وہ مراد نہیں ہے اس کا زاویہ مختلف ہے اس لئے تصادم نہیں ہے کوئی ٹکراؤ نہیں ہے بلکہ ایک اور انداز نور مانگنے کا اور نور کے معنوں کا اور میرے اوپر نور اور میرے نیچے نور بھی وہی غرقابی کا مضمون اور غرق ہو کے انسان تہہ تک تو پہنچ جایا کرتا ہے مگر اس چیز کی تہہ جس کی کوئی تہہ ہو۔وہ سمندر جو اتھاہ ہو، جس کی کوئی تہہ موجود نہ ہو، جس کا نہ دائیں کنارہ نہ بائیں ، نہ آگے نہ پیچھے، نہ اوپر نہ نیچے ، اس میں یہی دعا ہے جو موزوں دکھائی دیتی ہے اور بعینہ یہی ہونی چاہئے تھی مگر صاحب عرفان کے لئے۔فرمایا میں تجھ میں ڈوبتا چلا جاؤں لیکن ہمیشہ میرے نیچے تو رہے گا میں کبھی بھی تیری آخری حد کو نہیں پہنچ سکتانہ او پر نہ دائیں نہ بائیں، نہ آگے نہ پیچھے ہر طرف تو ہی تو ہو اور پھر بھی سفر جاری رہے۔سفر جاری ہونا اس دعا سے ظاہر ہے یعنی میں دعا مانگ رہا ہوں ، مانگتا چلا جاؤں گا اور اس مضمون کو میرے لئے تو کامل فرما تا چلا جا اور پھر فرمایا مجھے نور بنا دے حالانکہ نور بن چکے تھے۔پس جو نور بن چکا ہو وہ کہتا ہے مجھے نور بنادے اس میں وہی مضمون ہے جو میں بیان کر رہا ہوں۔نور بننے کے بعد آپ کی طبیعت کا انکسار بھی اس نور سے چمک اٹھا ہے۔طبیعت کا جو انکسار ہے یہ بعض دفعہ اندھیروں کی وجہ سے ہوتا ہے بعض دفعہ روشنی کے نتیجے